وکیل کے لیے قرآن کریم و احادیث مبارکہ میں وارد ہونے والی دس شرائط:
* وکالت کی تاریخ *
قرآن کریم و احادیث مبارکہ اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ وکالت ایک جائز پیشہ ہے ، اور کتب فقہ میں اسکا نام" وكالة بالخصومة يا وكالة الدعاوي " وارد ہوتا ہے جو کہ قرآن کریم و احادیث مبارکہ سے مستنبط ہے ،اور یورپ کے ہاں اس کے متعلق پہلا قانون 1810م میں جاری ہوا ، اور 1900م میں عورت کو بھی حق دیا گیا کہ وہ بھی ایک وکیل بن سکتی ہے لیکن فقہائے کرام نے عورت کی وکالت کے بارے میں پہلے ہی فرمادیا تھا کہ عورت کا وکالت کرنا جائز ہے
⚫ قرآن کریم و احادیث مبارکہ میں وکیل کے لیے وارد ہونے والی دس شروط:
ہمارے معاشرے میں وکالت کے پیشہ میں جو لاقانونیت پیدا ہوچکی ہے تو ضروری ہے کہ قرآن کریم و احادیث مبارکہ کے تصور وکالت کو واضح کیا جائے۔
◾پہلی شرط: وکیل عادل و منصف و صادق ہو
قرآن کریم نے اس شرط کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا "[الاحزاب:70 ]
ترجمہ:
اے إیمان والو! اللہ سے ڈرو ، اور سیدھی سیدھی بات کرو۔
اور سورہ مائدہ میں واضح فرمایا:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ لِلّهِ شُهَدَاء بِالْقِسْطِ وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُواْ اللّهَ إِنَّ اللّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ" [ المائدة :8 ]
ترجمہ:
اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف ( و عدل) کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ ، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اسکے خلاف نا انصافی پر نہ ابھارے ، عدل کرنا اور وہ ( عدل و انصاف ہی) اللہ کے زیادہ قریب ( مقبول) ہے ، اور اللہ سے ڈرنا بے شک وہ خبر دینے والا ہے اسکی جو کچھ تم کرتے ہو.
اس آیت میں واضح فرمادیا کہ ایک وکیل صرف دوسرے وکیل کو ہرانے کے لیے جھوٹی گواہیاں قائم نہ کرے ، اور نہ ہی کوئی گواہ یا جج کسی سے دشمنی کی بنیاد پہ غلط فیصلہ دے۔ اور تقوی کی بات اس لیے کی کہ جھوٹے گواہ جج سے تو چھپا سکتے ہو لیکن اس اللہ رب العزت سے نہیں جس سے کائنات کا ادنی سا ذرہ بھی پوشیدہ نہیں اور وہ تمہیں تمہارے ہر ظلم کی خبر دے گا لہذا ڈرنا۔
حتی کہ قرآن کریم نے ایک اور مقام پر تو اتنا بھی فرمایا کہ اگر کیس تمہارے اپنے ہی خلاف کیوں نہ ہو تب بھی عدل و انصاف و صدق کا دامن نہ چھوڑنا جیسے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ " [النساء: من 135 ]
ترجمہ:
اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے بن جاؤ اگرچہ وہ گواہی تمہارے اپنے ہی خلاف کیوں نہ ہو یا آپکے والدین یا پھر رشتہ داروں کے ( لیکن اس وقت بھی انصاف و صدق و عدل کا پیکر بن کر رہنا)۔
◾دوسری شرط : مکمل تحقیق کرنا
قرآن کریم نے وکلاء کو یہ أصول بھی دیا ہے اور ہر مسلم کو بھی کہ جب تمہارے پاس کوئی کیس آئے یا خبر آئے تو ہر طرح سے اسکی تحقیق کرلینا یہ نہ ہو کہ جب تمہیں حقیقت کا علم ہو تو ندامت اٹھانی پڑے لہذا سورہ حجرات میں ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ" [ الحجرات: 6 ]
ترجمہ:
اے ایمان والو! جب تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو پس تم خوب اسکی تحقیق کرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم لاعلمی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پہ پچھتاؤ۔
لہذا بعض وکیل صرف اپنے پیسوں کی بنیاد پہ کیس کو جتوانے کی کوشش کرتے ہیں پر یہ نہیں دیکھتے کہ حق پر کون ہے؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے بعض فرقہ پرست مولوی پیسوں کی خاطر اپنے مخالف کی طرف ہر بات کو منسوب کردیتے ہیں۔
اور اس آیت میں فاسق کا جو ذکر ہے اسکا مطلب یہ نہیں کہ غیر فاسق کی تحقیق نہ کی جائے بلکہ ہر شخص کی تحقیق کی جائے کیونکہ آیت میں لفظ فاسق غالب مفہوم کی وجہ سے ہے نہ کہ قید ہعنی زیادہ تر فاسق ہی جھوٹ بولتا ہے اسی لیے اسکا ذکر کیا اسکو عربی قاعدہ میں" خرج مخرج الغالب" کہتے ہیں۔
◾تیسری شرط: وکیل کو حلال و حرام کا علم ہو
کسی بھی وکیل کو حلال و حرام کا علم ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال ثابت کردیں جیسے آج کے دور میں ہوتا ہے لہذا قرآن کریم نے فرمایا:
"ولا تقولوا لما تصف ألسنتكم الكذب هذا حلال وهذا حرام لتفتروا على الله الكذب " [ النحل : من آیہ 116 ]
( اور تم نہ کہو کسی شے کو اپنی زبانوں سے ( بغیر دلیل شرعی کے) یہ حلال ہے ، اور یہ حرام ( یہ کہ کر) تم اللہ ( تعالیٰ) پہ جھوٹ باندھتے ہو).
اور حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
"لا ترتكبوا ما ارتكبت اليهود، فتستحلوا محارم الله بأدنى الحيل"
ترجمہ:
تم ان چیزوں کا ارتکاب نہ کرنا جنکا ارتکاب یہود نے کیا کیونکہ انہوں نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو چھوٹے چھوٹے حیلوں سے حلال کیا۔
( ابطال الحیل لابن بطہ ، حدیث نمبر:56 ، امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: اسکی سند جید ہے- تفسیر ابن کثیر- ج:1 ، ص :293 ، مطبوعہ دار طیبہ للنشر والتوزیع )
لہذا ہمارے ہاں وکالت میں باطل کو حق اور حق کو باطل ثابت کیا جاتا ہے جھوٹے دلائل سے جو کہ یہود کا فعل ہے۔
◾چوتھی شرط: ظالم کا ساتھ نہ دینا
امراء و ظالمین کی دولت کی وجہ سے ہر وکیل و جج یہ کوشش کرتا ہے کہ اسکو ضمانت مل جائے اسکے حق میں فیصلہ صادر ہوجائے لہذا وکیل سارے جھوٹے گواہ و دلائل جمع کرتا ہے اسی لیے قرآن کریم نے فرمایا:
"وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ " [الهود:113 ]
ترجمہ:
ان لوگوں کی طرف مت جھکنا جنہوں نے ظلم کیا ( اگر تم نے ایسا کیا تو ظالم کا ساتھ دینے کی وجہ سے) پس وہ آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں ہوگا پھر تمہاری مدد بھی نہیں کی جائے گی۔
لہذا وکلاء و ججز کو اپنی دنیا و آخرت کی فکر بھی کرنی چاہیے کیونکہ یہ آگ أنکو دنیا میں بھی کسی بھی صورت میں اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور اس پر زمانہ گواہ ہے ۔
حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
" من خاصم في باطل وهو يعلمه لم يزل في سخط الله حتى ينزع عنه"
ترجمہ:
جس نے بھی اس باطل کو جسکو وہ جانتا ہے ( ثابت کرنے کے لیے) وکالت کی وہ ہمیشہ اللہ کے غضب میں رہے گا یہاں تک وہ اس ( وکالت) سے دستبردار ہوجائے۔
( سنن أبی داود ، من حدیث : 3597 ، باب فیمن یعین علی خصومۃ من غیر أن یعلم أمرھا ، ج :3 ،ص :305 ، حدیث صحیح ہے)
لہذا وکالت کسی جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے نہیں ہونی چاہیے جیسے عصر حاضر میں ہورہا ہے۔
◾پانچویں شرط: وکیل مصلح ہو
وکیل کو ایسا ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی کیس کو عدالت میں لانے سے پہلے فریقین کے درمیان احسن طریقے سے صلح کی کوشش کرے بغیر کسی فریق پہ زیادتی کیے اور اسی پر اللہ کے رحم کرنے کا مدار بھی ہے جیسے کہ سورہ حجرات میں ہے:
"إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ " [الحجرات:10 ]
ترجمہ:
بے شک إیمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں پس تم اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کروایا کرو ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اس آیت میں لفظ" اتقوا الله / اللہ سے ڈرو" کا صلح کے ساتھ تعلق ہی یہ ہے کہ بہت سے وکیل کسی وڈیرے کا ساتھ دینے کے لیے غریب کو ڈرا دھمکاکر صلح کرواتے ہیں تو لہذا انہیں کے بارے میں قرآن کریم فرمارہا ہے کہ ایسی ظالمانہ صلح کرواتے ہوئے اللہ سے ڈرنا وہ تمہاری ان ظالمانہ حرکتوں سے واقف ہے بلکہ یہ صلح نہیں یہ ارتکاب حرام ہے جو یہودیوں کا فعل تھا جسکا بیان سابقہ شرط کے تحت ہوچکا ہے۔
◾چھٹی شرط: وکیل حق کا ساتھ دے
وکیل کو ہر وقت کوشش کرنی چاہیے کہ وہ حق کا ساتھ دے ، مظلوم کو اسکا حق دلوائے یہی وجہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
" إن الناس إذا رأوا ظالما فلم يأخذوا على يديه أوشك أن يعمهم بعقاب منه"
ترجمہ:
بے شک جب لوگ ظالم کو ( ظلم کرتے ہوئے دیکھیں) اور اسکا ہاتھ نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ ان لوگوں کو بطور سزا اندھا کردے اس (ظالم کے ظلم پر خاموش رہنے کی) وجہ سے.
( سنن ترمذی ، من حدیث: 3057 ، باب: ومن سورۃ المائدہ ، ج :5 ،ص :256 ، امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ، طبع شیخ شاکر)
آج تو وکلاء ایسے ہیں جو ظلم کو تو کیا روکیں گے خود کبھی ہاسپیٹل پہ حملہ کرکے ظالم بنتے ہیں اور کبھی کسی معصوم لڑکی کو لاتوں سے پیٹ کر حیوانیت کا نمونہ پیش کرتے ہیں تو کبھی سر عام گولیاں چلا کر خوف و ہراس کو پھیلاتے ہیں لہذا ایسے وکلاء کو ان قرآنی آیات و احادیث مبارکہ کو پڑھنے کے توبہ نصوح ( سچی) کرنی چاہیے۔
◾ ساتویں شرط: وکیل کو رازداں ہونا چاہیے
وکیل کو اور ہر مسلم کو ہمیشہ راز داں ہونا چاہیے کیونکہ وکیل کے سامنے اسکا کلائنڈ ہر بات کرتا ہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ وکیل اسکے راز کو لوگوں کے سانے بیان کرتا رہے ، یا اسکے راز کو چند پیسوں کی خاطر بیچ دے اور ایسے وکیل کے لیے حضور صلی الله علیہ وسلم نے وعید سنائی اور فرمایا:
"كُلُّ أَمَّتِى مُعَافًى إِلاَّ الْمُجَاهِرِينَ ، وَإِنَّ مِنَ الْمَجَاهرةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلاً ، ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ ، فَيَقُولَ : يَا فُلاَنُ! عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا ، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللهِ عَنْهُ "
ترجمہ:
میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا ( یا اسکی مذمت نہیں کی جائے گی) سوائے ان لوگوں کے جو اعلانیہ ( برائی کو بیان کرنے) والے ہیں ، اور أنکا اعلانیہ بیان کرنا یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص رات کو عمل کرتا ہے پھر صبح کرتا ہے اور اللہ نے اسکے گناہ کو پوشیدہ رکھا ہوتا ہے، پس وہ ( شخص) کہتا ہے: اے فلان ( شخص)! مینے کل اس طرح کا برا فعل کیا ہے حالانکہ اللہ نے اسکے فعل کو پوشیدہ رکھا تھا اور صبح ہوئی تو اس نے اس کو بے پردہ کردیا جسکو اللہ نے مخفی رکھا تھا اس شخص سے۔
(متفق علیہ؛ صحیح بخاری ، باب ستر المؤمن علی نفسہ ، حدیث نمبر: 6069 ، ج :8 ،ص :20 ، مطبوعہ دار طوق النجاۃ،
صحیح مسلم بتقاربہ ، باب النھی عن هتك الإنسان ستر نفسه ، ج:4 ،ص :2291 ،مطبوعہ دار إحیاء التراث العربی بیروت)
اور جو وکیل راز داں ہوگا اسکے لیے حضور صلی الله علیہ وسلم نے بشارت سنائی:
" ومن ستر على مسلم في الدنيا ستر الله عليه في الدنيا والآخرة "
ترجمہ:
اور جس نے کسی مسلمان کے راز کو راز رکھا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اسکے راز کو راز رکھے گا ( یعنی اسکے گناہوں کو معاف فرمادے گا)۔
( سنن ترمذی ، من حدیث: 1930 ، ج :4۔ ص :326 ، حدیث صحیح ہے)
اس حدیث میں جو لفظ مسلم آیا ہے تو یہ قید نہیں ہے مطلب یہ مراد نہیں کہ اگر غیر مسلم ہو تو اسکے راز کو راز نہ رکھیں بلکہ چاہے مسلمان ہو یا غیر مسلم سب کے راز کو راز رکھا جائے گا اور حدیث میں لفظ مسلم کی قید غالب استعمال کی وجہ سے ہے یعنی ایک مسلمان کا زیادہ تر معاملہ ایک مسلمان کے ساتھ ہوتا ہے ۔
◾آٹھویں شرط: کیس کے دوران ایسی بات نہ کرے جسکا کیس سے تعلق نہیں۔
بہت سے وکیل ایسے ہیں کہ مد مقابل کو خوف دلانے کے لیے اسکی ایسی ایسی باتیں بھی عدالت میں سنائی کے دوران کرتے ہیں جسکا تعلق اسکی عزت کے ساتھ ہوتا ہے ، اور بے حیائی والی باتیں کرکے اسکو بدنام کرتے ہیں تو ایسے وکلاء کے بارے میں ساتویں شرط میں وعید گزر چکی ہے ، اور یہاں ہم قرآن کریم کی آیت مبارکہ میں جو وعید آئی ہے اسکا ذکر کرتے ہیں :
"وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا " [ الأحزاب:58 ]
ترجمہ:
اور جو لوگ مؤمن مرد اور مؤمن عورتوں کو ان باتوں کے سبب تکلیف دیتے ہیں جنکا ارتکاب انہوں نے کیا ہی نہیں ہوتا تو پس انہوں نے بہتان باندھا اور واضح گناہ کیا۔
ہمارے عدالتوں میں کسی لڑکی کی عزت کو کس طرح ایک وکیل سنائی کے دوران اچھالتا ہے اسکا ہر ایک کو معلوم ہے تو ایسے وکیل قرآن کی اس وعید کو اپنے سامنے رکھیں اور اللہ کے حضور سچی توبہ کریں۔
◾ نویں شرط: وکیل کو اپنے مؤکل سے یا مد مقابل سے اچھے طریقے سے گفتگو کرنی چاہیے
حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
" ليس المؤمن بطعان ولا بلعان ولا الفاحش البذيء"
ترجمہ:
مؤمن طعن و لعنت اور بے حیائی پر مبنی کلام کرنے والا نہیں ہوتا ( بلکہ وہ اچھا کلام کرتا ہے)
( مسند إمام احمد ، حدیث نمبر: 3839 ، طبع مؤسسۃ الرسالہ ، حدیث صحیح ہے)
ایک دوسرے کو طعنہ دینے اور گالیاں دینے اور کسی کی عزت پر حملہ کرنے پہ جس طرح اکثر وکلاء کی عادت ہے ایسے ہی بعض فرقت پرست مولویوں کی بھی ہے جو زیادہ پیسا لینے کی خاطر مخالف مسلک کو گالیاں دیتے ہیں ۔
◾ دسویں شرط: فیصلے کو جلد ختم کرنا چاہیے
ہمارے معاشرے میں یہ وبا بھی عام ہے کہ جج اور وکیل ایک غریب شخص کو تاریخ پہ تاریخ دے کر اس پہ ظلم کرتے رہتے ہیں مالی طور پہ بھی اور وقت کے طور پہ بھی تو ایسے لوگوں کو حضور صلی الله علیہ کی وہ معروف حدیث مبارکہ ذہن میں رہنی چاہیے جس میں ہے کہ وعدہ کی خلاف ورزی منافق کرتا ہے ، اور اسی طرح جھوٹ کی وعید میں وارد ہونے والی آیات بھی اور احادیث مبارکہ بھی۔۔
اور جس نے کسی کے حق کو تھوڑا سا بھی لیٹ کیا انکے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" من قطع ميراثا فرضه الله ورسوله قطع الله به ميراثا في الجنة"
ترجمہ:
جس نے اس میراث ( جائداد) کو جو اللہ نے مقرر کی ہے ( دینے سے) منع کردیا ( یا لیٹ کردیا) اللہ تعالیٰ اس ( گناہ) کے سبب جنت میں اسکی میراث کو ختم کردے گا ( یعنی جنت سے داخل ہونے سے روک دے گا)
( شعب الایمان للبیہقی رحمہ اللہ، حدیث: 7594 ، ج : 10 ،ص :340 ، مطبوعہ مکتبۃ الراشد الریاض، اسکی سند میں ضعف ہے ، اور محقق نے کہا اسکی سند: لا بأس به ہے. قلت: لیکن یہ سلیمان ابن موسی اور عمران ابن سلیم کے طرق سے مرسلا بھی روایت ہے عند سعید بن منصور فی سننہ)
لہذا حدیث مبارکہ میں اہل میراث کو میراث میں صرف تاخیر کرنے کی وجہ سے وعید سنائی گئی ہے تو جو وکیل و ججز آئے روز لوگوں کو تاریخ پہ تاریخ دے کر انکے حق کو لیٹ کرتے ہیں تو وہ من باب اولی اس وعید میں شامل ہیں۔ لہذا صاحب حق کے حق کا فیصلہ جلد کرنا چاہیے۔۔
یہ ہیں وہ دس شروط وکلاء کے لیے جو قرآن کریم و احادیث مبارکہ میں وارد ہوئی ہیں اور ججز ہے لیے بھی یہی ہیں اور ہر اس شخص کے لیے بھی جس پر کسی دوسرے کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔
لہذا ہر وکیل و جج کو اللہ کے حضور توبہ کرنی چاہیے جس نے بھی ان شروط پہ عمل نہیں کیا۔
نہیں تو اللہ رب العزت کا یہ اعلان یاد رکھنا:
" إنا من المجرمين منتقمون" [ السجدة: من 22 ]
ترجمہ:
بے شک ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
#hassanlawchamber

Comments
Post a Comment