کیا 27 ویں ترمیم نے ماتحت عدالتوں پر بھی اثرات ڈالنے شروع کر دیے ہیں؟



برطانیہ کا نظام قانون checks and balances کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ اس نظام میں ایک لطیف قسم کا توازن قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ریاست کے ستون یعنی پارلیمینٹ، عدلیہ اور executive اپنی حدود کے اندر کام کریں اور executive کو اتنا طاقتور نہ کر دیا جائے کہ لوگ انصاف کو ترسیں بلکہ اس پر عدلیہ کا check موجود ہو۔ پاکستان میں ہر نئی حکومت نئے نئے تجربے کر کے ریاست اور ریاستی اداروں کو کمزور اور ناتواں کرتی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ذیادہ تر کرپٹ اور بدعنوان لوگ سیاست میں آتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ان پر کسی قسم کی روک ٹوک ہو۔ یہ کہنا کہ عمران خان کے دور میں کرپشن نہ تھی ایک جھوٹ ہے لیکن عمران خان کے دور میں اداروں کو اس طرح تباہ نہیں کیا گیا جیسا کہ اب کے آمرانہ جمہوریت بلکہ اب تو کہنا چاہیے آئنی آمریت میں کیا جا رہا ہے۔ ن لیگ کی حکومت کے بعد سب سے پہلے نیب کے پر کاٹ کر اسے مفلوج ادارہ بنا دیا گیا اور اب تک اس کے دائرہ اختیار سے باہر جانے والے مقدمات کی قسمت کا فیصلہ نہیں ہو سکا کہ وہ اینٹی کرپشن میں چلیں گے یا سپیشل جج سینٹرل کے پاس یا کہیں اور۔ اگر کہیں مقدمات ٹرانسفر ہوئے بھی ہیں تو ابھی تک ریکارڈ یکسو نہیں ہو سکا اور کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں ہو پا رہی۔ حالیہ ترامیم نے عدلیہ کا پورا ڈھانچہ نیست و نابود کر دیا ہے اور انتظامیہ کو عدلیہ کے کندھے پر سوار کر دیا گیا ہے جس کے دور رس برے نتائج برآمد ہوں گے۔ کچھ عرصہ سے محسوس کیا جا رہا تھا کہ عدلیہ پر شب خون مار کر اپنی مرضی کے جج صاحبان کو شامل کیا جا رہا ہے۔ جس کا بنیادی مقصد ہی یہ تھا کہ جب آئین میں ردوبدل کر کے عدلیہ کو بھیگی بلی بنایا جائے گا تو کوئی ایسا جج نہ سر اٹھائے جو آئین کے تحفظ کی بات کر سکے۔ اس طرح منصوبہ بندی سے پہلے عدلیہ میں لا تعداد جدید تقرریاں کی گئیں اور عین موقع پر عدلیہ پر ایسا شدید حملہ کر دیا کہ شاید عدلیہ کو اصل پارلیمانی حکومت کے تحت اپنا مقام حاصل کرنے میں دسیوں سال لگ جائیں۔ اب جبکہ اعلی عدلیہ انتظامیہ کے آگے سرنگوں ہو چکی ہے وکلاء کسی بہتری کی امید دل سے نکال دیں۔ اب چھوٹے چھوٹے سرکاری ادارے بھی عدلیہ کے کندھوں پر کھڑے ہو کر برہنہ ڈانس کریں گے اور عدلیہ کی مجال نہ ہو گی کہ اف تک کر سکے کیونکہ اب عدلیہ کے تقرر اور تبادلے انتظامیہ کے تحت ہوں گے۔ ایسے میں کوئی بھی حکم جو حکومت کے کسی ادارے کے خلاف ہو حکم دینے والے جج کے کیریر کی موت ثابت ہو سکتا ہے لہذا اب حکومت کے کسی ادارے کے خلاف مقدمات دائر کرنا ایک عبث کام ہو چکا ہے کیونکہ زیر دست کو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بالادست کو کسی کام سے روکے۔ افسوس یہ ہے کہ وہ سرکاری ادارے جہاں ایک نلکا لگانے سے ملزمان کی تفتیش تک کے لیے لاکھوں روپے رشوت لی جاتی ہے لوگوں کے درمیان فیصلے کریں گے۔ بہتر ہوتا کہ آئین پاکستان میں عدالتوں کی عمارتیں بھی ختم کرنے کا قانون پاس ہو جاتا تاکہ نا رہے گا بانس نہ بجے کی ںانسری۔۔
بہرحال اب وکلاء کے پاس کف افسوس ملنے کے علاؤہ کوئی راستہ نہیں۔ اب لوگ عدالتوں کی بجائے پولیس، ریونیو اور واپڈا سے پیسے دے کر کام کروا سکیں گے۔
*#REST IN PEACES JUDICIARY*

Comments