‏شاہ زیب خانزادہ صاحب کے لکھے ہوئے ڈرامے کیس نمبر 9 کا جو کلپ انہوں نے شیئر کیا اُس میں ایک اہم سین ہے کہ جہاں وکیل صاحبہ جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہیں:‏“اگر فاضل وکیل کو ابھی بھی اعتراض ہے تو میں ان کی تسلی کے لیے چاہوں گی کہ سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کا فیصلہ سامنے رکھا جائے، جو اس ملک کے چیف جسٹس ہوتے اگر 26ویں آئینی ترمیم منظور کرکے ان کا راستہ نہ روکا جاتا۔”‏مخالف وکیل فوری جواب میں کہتا ہے:‏“ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نا ہوتا میں تو کیا ہوتا، پارلیمنٹ ملک کا سپریم ترین ادارہ ہے اور وہ 26ویں ترمیم منظور کرچکا ہے۔”‏لیکن دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس سین کا اتنا اہم اور براہِ راست مکالمہ ہر پل جیو کے آفیشل یوٹیوب چینل پر موجود قسط نمبر 17 سے غائب ہے !

‏شاہ زیب خانزادہ صاحب کے لکھے ہوئے ڈرامے کیس نمبر 9 کا جو کلپ انہوں نے شیئر کیا اُس میں ایک اہم سین ہے کہ جہاں وکیل صاحبہ جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہیں:

‏“اگر فاضل وکیل کو ابھی بھی اعتراض ہے تو میں ان کی تسلی کے لیے چاہوں گی کہ سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کا فیصلہ سامنے رکھا جائے، جو اس ملک کے چیف جسٹس ہوتے اگر 26ویں آئینی ترمیم منظور کرکے ان کا راستہ نہ روکا جاتا۔”

‏مخالف وکیل فوری جواب میں کہتا ہے:

‏“ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نا ہوتا میں تو کیا ہوتا، پارلیمنٹ ملک کا سپریم ترین ادارہ ہے اور وہ 26ویں ترمیم منظور کرچکا ہے۔”

‏لیکن دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس سین کا اتنا اہم اور براہِ راست مکالمہ ہر پل جیو کے آفیشل یوٹیوب چینل پر موجود قسط نمبر 17 سے غائب ہے !

Comments