case law on ejectment of tenant

⚖️ 2025 MLD 1725

Muhammad Sharif vs. Fayyaz Ahmad

[لاہور ہائی کورٹ]
جج: جناب جسٹس سلطان تنویر احمد
تاریخِ فیصلہ: 2025

---

🧾 مقدمے کا پس منظر

یہ مقدمہ کرایہ داری (Ejectment of Tenant) سے متعلق تھا،
جس میں محمد شریف (کرایہ دار / اپیل کنندہ) نے
فیاض احمد (مالک مکان / مدعا علیہ) کے حق میں ہونے والے
الزامِ بے دخلی (Ejectment Order) کو چیلنج کیا۔

Posted by Legal Luminaries 
---

📜 حقائقِ مقدمہ

1️⃣ کرایہ دار (Appellant) نے موقف اختیار کیا کہ
جس مکان کے بارے میں بے دخلی کا حکم ہوا،
دراصل کرایہ نامہ (Rent Agreement) کسی اور جائیداد سے متعلق تھا۔

2️⃣ اس نے یہ بھی کہا کہ ایک اور شخص (مبینہ کرایہ دار)
اصل کرایہ دار تھا جو عرصہ دراز سے وہاں مقیم تھا۔

3️⃣ مالک مکان (Respondent) نے موقف اختیار کیا کہ
مذکورہ جائیداد اسی کی ملکیت میں ہے
اور اپیل کنندہ (محمد شریف) خود اس کا کرایہ دار تھا
جس نے کرایہ ادا نہیں کیا۔

4️⃣ رینٹ کنٹرولر (Rent Controller) نے
مدعا علیہ (مالک) کے حق میں فیصلہ دیا
اور حکم دیا کہ کرایہ دار جائیداد خالی کر کے
قبضہ مالک کو واپس کرے اور بقایا جات ادا کرے۔

---

⚖️ قانونی نکات

(a) Cantonments Rent Restriction Act, 1963 – Section 17

[دائرہ اختیار اور طریقہ کار]

یہ دفعہ کرایہ داری کے مقدمات کے لیے
رینٹ کنٹرولر (Rent Controller) کے اختیارات بیان کرتی ہے،
جس کے تحت کرایہ دار کو صرف وہی دفاع پیش کرنے کی اجازت ہے
جو قانون کے مطابق ہو، اور وہ لازمی طور پر بروقت جواب داخل کرے۔

📌 عدالت کا مشاہدہ:
اپیل کنندہ (محمد شریف) نے کئی مواقع ملنے کے باوجود
اپنا جواب (Written Reply) داخل نہیں کیا۔
اس لیے عدالت نے اسے غیرحاضری میں (Ex-parte) قرار دیا۔

---

(b) Civil Procedure Code, 1908 – Order I, Rule 10

[ضروری فریقین (Necessary Parties) کی شمولیت]

اس ضابطے کے تحت، عدالت کسی ایسے شخص کو
فریقِ مقدمہ بنا سکتی ہے جو مقدمے کے فیصلے سے
براہِ راست متاثر ہو سکتا ہو۔

📚 عدالتی تجزیہ:
ایک شخص (مبینہ کرایہ دار) نے O.I R.10 C.P.C. کے تحت درخواست دی
کہ اسے مقدمے میں فریق بنایا جائے۔
رینٹ کنٹرولر نے اس درخواست کو مسترد کر دیا
اور یہ فیصلہ کبھی چیلنج نہیں کیا گیا،
لہٰذا وہ فیصلہ قطعی (Final) ہو گیا۔

بعد میں، اپیل کے دوران اسی بنیاد پر نئی درخواست دوبارہ دائر کی گئی
جو ناقابلِ سماعت تھی کیونکہ وہ پہلے ہی فیصلہ شدہ معاملہ تھا۔

---

(c) کرایہ داری کے تعلق (Landlord–Tenant Relationship) کا اثبات

رینٹ کنٹرولر کے ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ:

اپیل کنندہ (محمد شریف) خود بطور کرایہ دار
جائیداد پر قابض ہوا۔

بعد میں اُس نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ
کسی دوسرے شخص نے قبضہ لے لیا ہے،
لیکن اس کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہ کیا۔

اُس شخص (مبینہ کرایہ دار) کی درخواست پہلے ہی خارج ہو چکی تھی۔

📚 عدالتی نتیجہ:
لہٰذا مالک اور کرایہ دار کا تعلق (Relationship)
ایک تسلیم شدہ حقیقت (Admitted Fact) تھا۔

---

(d) گواہی اور شہادت (Evidence Aspect)

1️⃣ اپیل کنندہ (کرایہ دار) عدالت میں حاضر نہیں ہوا
اور نہ ہی مدعا علیہ (مالک) کے گواہوں پر جرح (Cross-examination) کی۔

2️⃣ تین گواہوں (PWs) کے بیان حلفی (Affidavits)
عدالت میں جمع کرائے گئے جو بلا تردید (Unrebutted) رہے۔

3️⃣ ان گواہوں نے واضح طور پر کہا کہ
"مکان بطور ہال کرایہ پر دیا گیا تھا"
اور کرایہ دار نے عرصہ دراز سے کرایہ ادا نہیں کیا۔

📌 اس طرح ڈیفالٹ (Default) ثابت ہو گیا۔

---

🧠 عدالتی مشاہدات

1️⃣ اپیل کنندہ نے اپنی ہی باتوں سے
خود کو کرایہ دار تسلیم کیا۔

2️⃣ بعد میں مؤقف بدل کر کہا کہ
کوئی دوسرا شخص کرایہ دار ہے،
مگر نہ ثبوت دیا، نہ گواہی۔

3️⃣ مبینہ کرایہ دار کی درخواست پہلے ہی خارج ہو چکی تھی،
لہٰذا دوبارہ اُسی بنیاد پر نیا دعویٰ ناقابلِ قبول تھا۔

4️⃣ چونکہ گواہان کی شہادت پر کوئی جرح نہیں ہوئی،
لہٰذا وہ شہادت ناقابلِ تردید (Conclusive Evidence) بن گئی۔

---

📘 متعلقہ قانونی دفعات کی وضاحت

🔹 Cantonments Rent Restriction Act, 1963 – Section 17

> “رینٹ کنٹرولر کو یہ اختیار حاصل ہے
کہ وہ مقدمے کی سماعت کرے اور
کرایہ دار و مالک کے مابین کرایہ داری کے تنازعات کا فیصلہ کرے۔
کسی بھی فریق کو جواب داخل کرنے کے لیے مناسب موقع دیا جائے گا۔
اگر فریق جواب داخل نہ کرے تو اسے غیرحاضر تصور کیا جائے گا۔”

---

🔹 Civil Procedure Code, 1908 – Order I, Rule 10

> “عدالت کسی ایسے شخص کو مقدمے کا فریق بنا سکتی ہے

جو مقدمے کے فیصلے سے متاثر ہو،
بشرطیکہ عدالت اسے ضروری سمجھے۔
تاہم، ایسا شخص دوبارہ فریق نہیں بن سکتا
اگر اس کی درخواست پہلے ہی خارج ہو چکی ہو۔”

---

⚖️ عدالتی اصول

قانونی اصول وضاحت

1️⃣ کرایہ داری کا تعلق تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ اگر فریق خود کو کرایہ دار تسلیم کر لے تو بعد میں انکار ناقابلِ قبول ہے۔

2️⃣ غیرحاضری میں گواہی ناقابلِ تردید بن جاتی ہے۔ اگر کوئی جرح نہ ہو تو عدالت اُس گواہی کو سچ مان سکتی ہے۔

3️⃣ ایک ہی معاملے پر دوبارہ درخواست ناقابلِ سماعت ہے۔ Order I Rule 10 کے تحت ایک ہی معاملے پر دوسری درخواست نہیں سنی جا سکتی۔

4️⃣ اپیل عدالت نئے حقائق پر غور نہیں کر سکتی۔ صرف وہی نکات دیکھے جائیں گے جو زیریں عدالتوں میں اٹھائے گئے۔

---

⚖️ عدالتی فیصلہ

عدالت نے قرار دیا کہ کرایہ دار (محمد شریف)
نے نہ تو اپنے مؤقف کو ثبوت سے ثابت کیا
اور نہ ہی گواہی پر کوئی جرح کی۔

کرایہ داری کا رشتہ تسلیم شدہ تھا۔

کرایہ کی ادائیگی میں ڈیفالٹ ثابت ہو گیا۔

Rent Controller اور Appellate Court دونوں کے فیصلے درست تھے۔

📜 نتیجہ:
اپیل خارج (Dismissed) کر دی گئی۔
O.I Rule 10 C.P.C. کے تحت دائر درخواست بھی مسترد۔

---

📚 حوالہ جاتی نظائر

Fayyaz Ahmad v. Muhammad Sharif (2025 MLD 1725)
➤ “کرایہ داری کے تسلیم شدہ تعلق میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں جب تک مستند شہادت نہ ہو۔”

---

📘 خلاصہ کلام

> "کرایہ داری کے مقدمات میں اگر کرایہ دار خود تعلق تسلیم کر لے
تو بعد ازاں اس سے انکار نہیں کر سکتا۔
گواہی پر جرح نہ کرنا اس کے خلاف ناقابلِ تردید ثبوت بن جاتا ہے۔
عدالتِ عالیہ نے قرار دیا کہ جہاں کوئی نیا نکتہ یا غیرقانونی کارروائی موجود نہ ہو،
وہاں اپیل مسترد کر دی جائے گی۔"

Posted by Legal Luminaries 

2025 MLD 1725

[Lahore]

Before Sultan Tanvir Ahmad, J

MUHAMMAD SHARIF---Appellant

versus

FAYYAZ AHMAD---Respondent

Cantonments Rent Restriction Act (IX of 1963)---

---S.17---Civil Procedure Code (V of 1908), O.1, R.10---Ejectment of tenant---The appellant (tenant) challenged the order passed by the Rent Controller, whereby, the ejectment petition in respect of rented premises was accepted and vacant possession along with arrears of rent was directed to be handed over to the respondent (landlord)--- The appellant (tenant) argued that the rent agreement actually pertained to ' another property ' and not the property in question and that another person had been a tenant since long---Held: The ownership of the respondent (landlord) with respect to the property in question and ' another property ' was an admitted fact---The appellant (tenant) got recorded his statement with respect to an application under 0.1 R.10, C.P.C. filed by the purported tenant---After conceding that the appellant (tenant) gained possession of the premises as a tenant, he took a stance that another person (the purported tenant) became subsequent tenant of the respondent (landlord), however, it was clearly stated that the appellant/tenant was not a witness of any subsequent arrangement with the purported tenant---Application of the purported tenant was dismissed by the Rent Controller which order was never challenged hence attained finality---Instead of raising any challenge against such order at the relevant time, while the present appeal was pending an application under O.I R.10 of C.P.C. was instituted on the same grounds which were available to the purported tenant before the Rent Tribunal---Appellant despite availing number of opportunities to file reply to the ejectment petition failed to do the same as such he was proceeded against ex-parte, resultantly, the Rent Controller proceeded to record ex-parte evidence---No request was made before the Rent Controller to permit him to participate in the process of evidence or to cross-examine the witnesses of the respondent (landlord)---The affidavits (examination-in-chief) of three PWs were brought on record and since they were not cross-examined, the same went un-rebutted---The default on the part of the appellant (tenant) also stood established---The three PWs clearly deposed that the premises in question was rented out in the shape of a hall---Needless to say that relationship of landlord and tenant was an admitted fact---The appellant (tenant) failed to make out any case---Present appeal along with the application under O.I, R.10, C.P.C. filed by the purported tenant were dismissed, in the circumstances. [Lahore]1725

Comments