important of witnesses

اہم گواہوں کے ترک کیے جانے کے قانونی اثرات اور ضبط شدہ منشیات کی محفوظ تحویل کی اہمیت

انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 کے تحت کسی ملزم کی سزا کے لیے استغاثہ پر یہ نہایت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بلا شبہ و شبہات ثابت کرے کہ ملزم کے قبضہ سے برآمد شدہ مواد، درحقیقت، اسی نوعیت کی منشیات میں سے ہے جسے مذکورہ قانون میں بطورِ منشیات متعین کیا گیا ہے۔ اس عنصر کو ثابت کرنے کا سب سے بنیادی اور اہم ذریعہ سرکاری تجزیہ کار (گورنمنٹ انالسٹ) کی رپورٹ ہے۔ اس رپورٹ کی ساکھ، صداقت اور قابلِ بھروسا ہونے کا مکمل انحصار بَرحصولی (recovery) سے لے کر کیمیکل ایگزامینر کے دفتر تک محفوظ تحویل کے سلسلہ (Chain of Custody) کو بلا خلل ثابت کرنے پر ہے۔

محفوظ تحویل کا سلسلہ اس مرحلے سے شروع ہوتا ہے جب ملزم سے مبینہ منشیات برآمد ہوتی ہے، اور اُس وقت تک برقرار رہتا ہے جب نمونے (samples) سرکاری تجزیہ کار کے دفتر تک پہنچا دیے جاتے ہیں۔ برآمدگی کے بعد نمونہ جات کو اصولِ قانون کے مطابق، جس کی وضاحت سپریم کورٹ نے امیر زیب کیس میں کی۔ الگ کیا جاتا ہے اور درست طریقے سے سیل کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں مکمل برآمد شدہ مال کو متعلقہ پولیس اسٹیشن پہنچا کر وہاں مال خانہ یا مجاز ادارے کی تحویل میں رکھا جانا لازم ہے۔ پھر انہی محفوظ نمونہ جات کو مال خانہ سے نکال کر مقررہ ضابطہ کار کے تحت متعلقہ کیمیکل ایگزامینر کے پاس روانہ کیا جاتا ہے۔

یوں محفوظ تحویل کا سلسلہ برآمدگی سے شروع ہو کر نمونہ جات کے دفترِ تجزیہ کار تک پہنچنے تک جاری رہتا ہے۔ اس سلسلے کے ہر مرحلے کی سالمیت (integrity) ثابت کرنا ضروری ہے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ برآمد شدہ مواد وہی ہے جسے قانون میں منشیات قرار دیا گیا ہے۔ دفعہ 29، ایکٹ 1997 کے تحت عدالت یہ مفروضہ قائم کر سکتی ہے کہ ملزم نے جرم کا ارتکاب کیا ہے، تاہم مخالف شواہد سے یہ مفروضہ زائل بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے محفوظ تحویل کا تسلسل استغاثہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، جو ناقابلِ تردید، شفاف، غیر مشکوک اور محفوظ شواہد سے ثابت ہونا چاہیے۔

اگر محفوظ تحویل کے کسی بھی مرحلے میں خلل پیدا ہوجائے یا یہ ثابت نہ ہو سکے کہ نمونے محفوظ، غیر مشکوک اور محفوظ طریقے سے منتقل ہوئے، تو کیمیکل انالسٹ کی رپورٹ کی بنیاد متزلزل ہو جاتی ہے، جس سے نتیجتاً سزا برقرار نہیں رہ سکتی۔ اگر مال خانہ کے انچارج یا وہ ذمہ دار اہلکار جس کے سپرد اس کی تحویل تھی، پیش نہ کیا جائے، یا محفوظ اندراجات (entries) کا ناقابلِ تردید ریکارڈ پیش نہ کیا جائے، تو محفوظ تحویل مشکوک ہو جاتی ہے، اور اس طرح سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر وہ اہلکار جو نمونے کیمیکل ایگزامینر کے پاس لے گیا، عدالت میں پیش نہ کیا جائے، تو بھی سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے، اور رپورٹ ناقابلِ اعتماد ہو جاتی ہے۔ اس لیے استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ بلا شبہ ثابت کرے کہ محفوظ تحویل کا ہر مرحلہ بلا خلل اور بلا نقص رہا ہے۔

گواہوں کے ترک کیے جانے کا قانونی اثر:

اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا استغاثہ نے اہم گواہوں کو ترک کرکے درست عمل اختیار کیا یا نہیں، اور کیا ٹرائل کورٹ نے پراسیکیوشن کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپنا قانونی فریضہ درست طور پر انجام دیا؟ مزید یہ کہ کیا ٹرائل کورٹ اُن گواہوں کو سمن کرنے کا حکم دے سکتی تھی جو تقویمِ گواہان (calendar of witnesses) میں شامل نہ تھے؟

چونکہ ایکٹ 1997 ایک خصوصی قانون ہے، لہٰذا یہ عام قوانین پر بالادستی رکھتا ہے۔ تاہم دفعہ 47 کے تحت جہاں اس میں کوئی ترمیم یا استثناء نہ ہو، وہاں ضابطہ فوجداری (Cr.P.C.) نافذ العمل رہے گا۔ دفعہ 540 ضابطہ فوجداری کے تحت عدالت کو کسی بھی مرحلے پر کسی شخص کو بطور گواہ طلب کرنے، پہلے سے موجود گواہ کو دوبارہ طلب کرنے یا حاضر شخص کا بیان ریکارڈ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

دفعہ 540 کے دو حصے ہیں:

1. اختیاری حصہ: عدالت کسی بھی مرحلے پر کسی بھی شخص کو طلب کر سکتی ہے۔

2. لازمی حصہ: اگر کسی شخص کی شہادت کیس کے منصفانہ فیصلے کے لیے ضروری ہو، تو عدالت اس کے طلب کرنے کی پابند ہے۔

اگرچہ عدالت کو وسیع اختیارات حاصل ہیں، مگر انہیں انتہائی احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا لازم ہے تاکہ ایسا تاثر نہ ہو کہ عدالت استغاثہ کی مدد کے لیے اس کی کمزوریاں پُر کر رہی ہے۔ عدالت کا فرض ہے کہ وہ اس اختیار کو انصاف کے تقاضوں کے تابع استعمال کرے، نہ کہ کسی فریق کو ناجائز فائدہ دینے کے لیے۔

یہ اختیار نہ تو صرف استغاثہ کو سہارا دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی محض دفاع کے حق میں۔ عدالت کو ہمیشہ دیکھنا ہوگا کہ آیا گواہ کا طلب کرنا انصاف کے تقاضوں کے لیے ضروری ہے یا نہیں۔ اگرچہ 161 ضابطہ فوجداری کے تحت جس گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوا ہو، اسے 540 کے تحت طلب کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کی شہادت کی وزن داری (evidentiary value) عدالت خود طے کرے گی، تاکہ ملزم کو کوئی prejudice نہ پہنچے۔

Crl. A. 525 of 2022
Ameenullah and Khairullah vs. 
The State and another

Comments