Law case on r*pe

PLJ 2025 Cr.C. (Note) 238
ریپ۔۔۔
دفعہ 375 تعزیراتِ پاکستان میں ریپ کی تعریف واضح طور پر بیان کی گئی ہے کہ اگر کسی بھی شخص کے جسم کے کسی حصے یا کسی شے کو متاثرہ خاتون/بچی کی اندام نہانی، منہ، پیشاب کی نالی (یُوریتھرا) یا مقعد (انوَس) میں داخل کیا جائے، چاہے وہ دخول بہت معمولی ہی کیوں نہ ہو، تو یہ ریپ کے زمرے میں آئے گا، اس بات سے قطع نظر کہ منی کے اخراج (Seminal Discharge) کا ہونا ثابت ہو یا نہ ہو۔لہٰذا، دخول کا صرف ثابت ہونا ہی ریپ کے ثابت ہونے کے لیے کافی ہے۔منی یا سپرم کا ملنا ضروری شرط نہیں۔
اس جرم کی بنیاد متاثرہ کی جسمانی خودمختاری اور حرمت کی خلاف ورزی ہے، نہ کہ مادی یا حیاتیاتی ثبوت کا موجود ہونا۔قانون کا مقصد یہ ہے کہ متاثرہ کی عزت و وقار کا تحفظ کیا جائے، اس لیے سپرم یا منی کے عدم وجود سے استغاثہ کا مقدمہ کمزور نہیں ہوتا۔اگرچہ PFSA (پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی) کی رپورٹ میں متاثرہ کے مقعد سے لیے گئے سواب (Anal Swabs) پر ملزم کا کوئی بھی سیمین یا سپرم نہ پایا گیا، لیکن رپورٹ نے اس کے نہ ملنے کے کئی ممکنہ اسباب بھی بیان کیے، جیسے:ملزم نے کنڈوم استعمال کیا ہو
منی خارج نہ ہوئی ہو میڈیکو لیگل معائنہ میں تاخیر ثبوت محفوظ کرنے یا پیکنگ میں غلطی متاثرہ کا خود سے کپڑے بدل لینا یا نہانا ان وجوہات کی بنیاد پر رپورٹ کو غیر حتمی (Inconclusive) قرار دیا گیا اور یہ نہ تو ملزم کی غیر موجودگی ثابت کرتی ہے نہ ذمہ داری سے بری کرتی ہے۔
ایسی صورت میں عدالتوں پر لازم ہے کہ دیگر دستیاب شہادتوں کو دیکھتے ہوئے منصفانہ نتیجہ اخذ کریں۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ڈی این اے ٹیسٹ مجرم کی شناخت کے حوالے سے نہایت مستند معاون ثبوت ہے۔ یہ
اصل مجرم کو سزا دلوانے اور بے گناہوں کو بری کروانےمیں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈی این اے بطور واحد اور خود مختار ثبوت کافی نہیں۔
یہ صرف تائیدی شہادت (Corroborative Evidence) ہے، یعنی دوسرے دستیاب شواہد کو مضبوط بناتا ہے، لیکن اپنے بل پر مکمل اور فیصلہ کن ثبوت نہیں بن سکتا۔

Crl. A. No. 213/J of 2024
محمد رضوان عرف جانی بنام ریاست

Comments