بار بار التواء (تاریخ لینے) کی درخواستیں دینے کی وجہ سے عدالت نے عبوری حکمِ امتناع (Ad-Interim Injunction) واپس لیا تاکہ درخواست گزار کی حاضری یقینی بنائی جا سکے اور عبوری ریلیف کی درخواست پر دلائل سنے جا سکیں۔ ایسا حکم عام طور پر حتمی فیصلہ نہیں ہوتا اور اسے اعلیٰ عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔اس قسم کے حکم میں اعلیٰ عدالت صرف اسی صورت مداخلت کرتی ہے جب یہ ثابت ہو کہ حکم قانون یا حقائق کے خلاف، غیر قانونی، من مانی پر مبنی یا دائرۂ اختیار سے باہر دیا گیا ہو۔ محض عبوری حکم واپس لینے کی بنیاد پر اعلیٰ فورم سے رجوع کرنا قابلِ قبول نہیں ہوتا۔متفرق رٹ نمبر: 75498/25کنیز بیگم بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج وغیرہفیصلہ: جسٹس مزمل اختر شبیربتاریخ: 18-12-20252025 LHC 7754

Comments