Skip to main content
جب دستیاب ریکارڈ سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ واقعہ کے وقت مرحوم (تب زخمی) انتہائی نازک حالت میں تھا، ڈاکٹروں کی نگرانی میں انستھیزیا کے تحت رکھا گیا، ناک میں آکسیجن ٹیوب ڈالی گئی اور وہ شاک کی حالت میں Intensive Care Unit منتقل کیے گئے، تو تفتیشی افسر کا یہ دعویٰ کہ وہ (تب زخمی) ایمرجنسی وارڈ کے باہر پڑے تھے اور ان کا بیان سیکشن 161 Cr.P.C کے تحت وہاں ریکارڈ کیا گیا، محض بے بنیاد اور ناقابلِ یقین کہانی ہے۔خاص طور پر اس وقت جب نہ تو کسی Medical Officer سے اجازت لی گئی اور نہ ہی بیان ریکارڈ کرنے کے حوالے سے کوئی تصدیق (Attestation) موجود ہے۔ لہٰذا، مذکورہ بیان کو Dying Declaration قرار دینا ممکن نہیں اور نہ ہی اس پر قانونی اعتبار کیا جا سکتا ہے، اور یہ استغاثہ کے کیس میں کسی قانونی کارآمد حیثیت کا حامل نہیں ہے۔نعمان اعجاز وغیرہ بنام ریاست وغیرہجج: چیف جسٹس عالیہ نیلم17-11-20252025 LHC 6798
Comments
Post a Comment