Skip to main content
یہ کہانی ہے ایک عام شہری کے تحفظ اور انصاف کی بالادستی کی، جسے لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) نے ایک تاریخی فیصلے کی صورت میں تحریر کیا ہے۔پہلا باب: قانون کا ظہور اور ایک نئی الجھنجب حکومتِ پنجاب نے Punjab Protection of Ownership of Immovable Property Ordinance, 2025 نافذ کیا، تو اس کا مقصد جائیدادوں پر ناجائز قبضے ختم کرنا تھا۔ اس قانون کے تحت دو اہم فورم بنائے گئے: ایک ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی (DRC) اور دوسرا ٹریبونل۔ لیکن عملی طور پر ایک غلط فہمی پیدا ہو گئی؛ انتظامیہ اور DRC نے خود کو جج اور پولیس دونوں سمجھنا شروع کر دیا اور زبانی احکامات پر لوگوں کو بے دخل کرنے لگے۔دوسرا باب: عدالت کی مداخلت – ’کون کیا کر سکتا ہے؟‘معاملہ جب لاہور ہائی کورٹ پہنچا، تو عدالت نے اس قانون کی تہوں کو کھول کر رکھ دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہر ادارے کی اپنی ایک "لکشمن ریکھا" (حدود) ہے جسے پار نہیں کیا جا سکتا۔تیسرا باب: DRC کی حقیقت (محض ایک سہولت کار)عدالت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ DRC کوئی عدالت نہیں ہے۔یہ صرف ایک تفتیشی اور مفاہمتی فورم ہے۔اس کا کام فریقین کو سننا، حقائق دیکھنا اور صلح کی کوشش کرنا ہے۔سیکشن 9 کے تحت اس کے پاس صرف "احتیاطی" اختیارات ہیں، جیسے ضمانت لینا یا عارضی طور پر جائیداد سیل کرنا—وہ بھی صرف تب، جب کوئی تحریری اور ٹھوس وجہ موجود ہو۔عدالت نے خبردار کیا کہ DRC نہ تو زبانی حکم دے سکتی ہے، نہ پولیس کے ذریعے قبضہ چھڑوا سکتی ہے اور نہ ہی کسی کو بے دخل کر سکتی ہے۔چوتھا باب: اصل طاقت – ٹریبونل کا اختیارکہانی کا اصل رخ سیکشن 16 اور 17 کی طرف مڑتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں کسی کو جائیداد سے نکالنے یا قبضہ بحال کرنے کا اختیار صرف اور صرف ٹریبونل کے پاس ہے۔جب تک ٹریبونل کا باقاعدہ قانونی حکم نامہ جاری نہ ہو، کسی شہری کو اس کی چھت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔پانچواں باب: عدالتی حکم کی بالادستیفیصلے میں ایک اہم موڑ یہ بھی آیا کہ اگر پہلے سے کسی سول کورٹ کا اسٹے آرڈر (Status-quo) موجود ہے، تو DRC کی حیثیت ایک تماشائی سے زیادہ کچھ نہیں۔ وہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی بھی اقدام نہیں کر سکتی۔ ایسا کرنا عدالتی اختیار میں مداخلت مانا جائے گا۔حتمی نتیجہ: انصاف کی فتحاس فیصلے نے یہ پیغام دیا ہے کہ:قانون کا راستہ (Due Process): شارٹ کٹ نہیں چلے گا۔شہری حقوق کا تحفظ: انتظامیہ اپنی مرضی سے کسی کو بے گھر نہیں کر سکتی۔واضح تقسیم: تفتیش کرنا DRC کا کام ہے، اور فیصلہ سنانا ٹریبونل کا۔آج یہ فیصلہ ہر اس شہری کے لیے ڈھال بن گیا ہے جو انتظامیہ کی من مانیوں کا شکار تھا، اور وکلاء کے لیے ایک ایسی کتاب بن گیا ہے جس نے جائیداد کے تنازعات میں انصاف کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔
Comments
Post a Comment