جب فیملی کورٹ کسی فریق کو تحریری جواب (Written Statement) داخل کرنے کے لیے مناسب اور مؤثر موقع فراہم نہ کرے، تو انصاف کے تقاضوں کے تحت اسے ایک اضافی موقع ضرور دیا جانا چاہیے۔ عدالتِ عالیہ نے قرار دیا کہ مقدمات کو جلد نمٹانے کی خواہش قابلِ ستائش ہے، لیکن ایسی جلد بازی ہرگز مناسب نہیں جو عدالتی غور و فکر کے بغیر فیصلے تک پہنچائے۔فیصلہ واضح کرتا ہے کہ صرف expediency کی بنیاد پر ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جانا چاہیے جس سے کسی فریق کو ناانصافی یا قانونی prejudice کا سامنا کرنا پڑے۔ عدلیہ پر لازم ہے کہ وہ دونوں اصولوں کے درمیان مؤثر توازن قائم رکھے کہ:"Justice delayed is justice denied"اور"Justice hurried is justice buried"یعنی نہ تو انصاف میں بلاجواز تاخیر ہونی چاہیے اور نہ ہی اتنی جلدی کہ انصاف ہی دفن ہو جائے۔

Comments