Skip to main content
اس مقدمہ کے مختصر حقائق یہ ہیں کہ ملزم محمد صدیق پر الزام عائد کیا گیا کہ اُس نے 14.09.2015 کو تھانہ پنڈی گھیب، ضلع اٹک کی حدود میں مقتول غلام فرید کو فائرنگ کر کے قتل کیا۔ ٹرائل کورٹ نے استغاثہ کی عینی شہادتوں اور دیگر شواہد پر اعتماد کرتے ہوئے ملزم کو دفعہ 302(b) تعزیراتِ پاکستان کے تحت سزائے موت اور معاوضہ کی سزا سنائی، جسے لاہور ہائیکورٹ، راولپنڈی بنچ نے عمر قید میں تبدیل کر دیا جبکہ سزا یافتگی برقرار رکھی۔ اس فیصلے کے خلاف ملزم نے بریت کیلئے جبکہ مدعی نے سزا میں اضافے کیلئے عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کیا۔سپریم کورٹ نے شواہد کا گہرے اور باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ کا مقدمہ دیہی زندگی کے مسلمہ حقائق اور معمولات کے برخلاف تشکیل دیا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عام دیہی تجربہ کے مطابق دیہاتی علی الصبح اپنے مویشی چراگاہوں میں لے جاتے ہیں، دوپہر تک واپس آ جاتے ہیں اور شام کے وقت غروبِ آفتاب سے قبل انہیں گھروں کو واپس لے آتے ہیں۔ ایسے حالات میں ستمبر کے مہینے میں شام چھ بجے کھیتوں میں مویشی چرانے کا دعویٰ فطری انسانی طرزِ عمل اور دیہی معاشرتی معمولات سے مطابقت نہیں رکھتا، جس سے مبینہ عینی شاہدین کی موقع پر موجودگی شدید شکوک کا شکار ہو جاتی ہے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ دیہی معاشرے میں خاندانی رشتے، سسرالی تعلقات اور سماجی اقدار کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ جب خود مدعی کے بیان کے مطابق ملزم کی ایک بیٹی مقتول کے نکاح میں تھی، ازدواجی زندگی خوشگوار تھی اور اُن سے تین بچے بھی تھے، تو ایسے داماد کے قتل کا کوئی معقول اور قابلِ فہم محرک ثابت نہیں ہو سکا۔ دیہی سماجی تناظر میں ایسی دشمنی یا انتقامی کارروائی ناقابلِ فہم قرار پائی، جس سے استغاثہ کے دعویٰ پر مزید سوالات جنم لیتے ہیں۔عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مبینہ عینی شاہد عبدالغنی ایک “چانس وِٹنس” تھا جو اپنی موجودگی کے جواز میں کوئی مضبوط، فطری اور آزاد شہادت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ مزید برآں، ایف آئی آر کے اندراج میں بلا جواز تاخیر اور پوسٹ مارٹم کے انعقاد میں غیر وضاحتی وقفہ بھی استغاثہ کے مقدمہ کیلئے مہلک ثابت ہوا۔ عدالت نے اصولِ قانون کو دہراتے ہوئے قرار دیا کہ جب براہِ راست شہادت ناقابلِ اعتماد قرار پائے تو اسلحہ کی برآمدگی اور فرانزک رپورٹ جیسی ضمنی شہادتیں بذاتِ خود سزا کی بنیاد نہیں بن سکتیں۔بالآخر عدالتِ عظمیٰ اس نتیجے پر پہنچی کہ استغاثہ شک سے بالاتر الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ چونکہ فوجداری قانون میں ایک معقول شک بھی ملزم کو بریت کا حق دیتا ہے، اس لئے شک کا فائدہ ملزم کو دیتے ہوئے اس کی سزا اور سزا یافتگی کالعدم قرار دی گئی اور اُسے بری کیا گیا، جبکہ سزا میں اضافے سے متعلق مدعی کی درخواست ملزم کی بریت کے باعث غیر مؤثر قرار دے کر خارج کر دی گئی۔
Comments
Post a Comment