یہ معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں دو علیحدہ قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں کی صورت میں پیش ہوا، جو مرزا یحییٰ بیگ اور مرزا طاہر بیگ کی جانب سے دائر کی گئیں۔ یہ درخواستیں ایف آئی آر نمبر 1966 مورخہ 02-12-2024، درج تھانہ نارنگ، ضلع شیخوپورہ، میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 420، 468 اور 471 کے تحت تھیں۔ دونوں درخواستیں دوسری مرتبہ دائر کی گئیں کیونکہ پہلی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں اس وقت واپس لے لی گئی تھیں جب فرانزک رپورٹس زیرِ التوا تھیں۔ریکارڈ کے مطابق مدعی مرزا مظہر بیگ ایک اوورسیز پاکستانی ہیں اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کی تقریباً نو ایکڑ زرعی زمین ضلع شیخوپورہ میں واقع ہے جو مرزا یحییٰ بیگ کے پاس لیز پر تھی۔ سال 2024 میں جب مدعی نے اپنی زمین واپس مانگی تو الزام ہے کہ درخواست گزاران نے باہم ملی بھگت سے ایک قبل از تاریخ جعلی معاہدہ برائے فروخت مؤرخہ 09-05-2017 تیار کیا، جس پر مرزا طاہر بیگ بطور گواہ شامل تھے، اور اسی جعلی معاہدے کی بنیاد پر دیوانی عدالت سے حکمِ امتناعی حاصل کیا گیا۔ مدعی کا مؤقف ہے کہ مذکورہ تاریخ کو وہ پاکستان میں موجود نہیں تھے بلکہ کینیڈا میں تھے، جس سے معاہدہ جعلی ثابت ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر مدعی نے اپنے وکیلِ مختار کے ذریعے ایف آئی آر درج کروائی۔درخواست گزاران کے وکیل نے دو بنیادی اعتراضات اٹھائے۔ پہلا یہ کہ ایف آئی آر وکیلِ مختار کے ذریعے درج کروانا قانوناً درست نہیں، اور دوسرا یہ کہ چونکہ معاملہ دیوانی عدالت میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے فوجداری کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی۔ دوسری جانب، استغاثہ اور مدعی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر قانون کے مطابق درج ہوئی ہے، دیوانی اور فوجداری کارروائیاں بیک وقت چل سکتی ہیں، اور فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) کی رپورٹ کے مطابق معاہدے پر موجود دستخط جعلی اور ٹریسنگ کے ذریعے بنائے گئے ہیں۔عدالت نے واضح کیا کہ یہ ایک مسلمہ قانونی اصول ہے کہ دیوانی مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کے باوجود فوجداری کارروائی جاری رہ سکتی ہے۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ ایف آئی آر کا مقصد کسی کو مجرم قرار دینا نہیں بلکہ جرم کی اطلاع دے کر تفتیشی عمل کو متحرک کرنا ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق کوئی بھی باخبر شخص، حتیٰ کہ وکیلِ مختار بھی، ایف آئی آر درج کروا سکتا ہے، خصوصاً جب اصل مدعی بیرونِ ملک مقیم ہو۔ جرم چونکہ صرف ذاتی نہیں بلکہ عوامی غلطی بھی ہوتا ہے، اس لیے قانون کی مشینری کو حرکت میں لانے پر کوئی پابندی نہیں۔عدالت نے پاور آف اٹارنی اور ایجنٹ و پرنسپل کے قانونی تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وکیلِ مختار اپنے موکل کی جانب سے ہر وہ قانونی اقدام کر سکتا ہے جو اس کے اختیار میں شامل ہو، بشمول فوجداری کارروائی کا آغاز۔ عدالتی نظائر کی روشنی میں یہ بات طے شدہ ہے کہ وکیلِ مختار کے ذریعے ایف آئی آر درج کروانا قانوناً درست ہے۔میرٹ پر عدالت نے یہ مشاہدہ کیا کہ PFSA کی رپورٹ کے مطابق متنازعہ معاہدہ پر موجود دستخط جعلی ہیں اور ٹریسنگ کے ذریعے بنائے گئے ہیں۔ تفتیشی ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں درخواست گزاران جعل سازی میں باہم شریک تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ قبل از گرفتاری ضمانت ایک غیر معمولی رعایت ہے جو صرف اس صورت میں دی جا سکتی ہے جب گرفتاری بدنیتی یا انتقامی کارروائی پر مبنی ہو، جبکہ موجودہ معاملہ میں ایسی کوئی بدنیتی ثابت نہیں ہو سکی۔ان تمام حقائق اور قانونی نکات کی روشنی میں عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ درخواست گزاران دفعہ 497/498 ضابطۂ فوجداری کے تحت قبل از گرفتاری ضمانت کے مستحق نہیں۔ لہٰذا دونوں درخواستیں مسترد کر دی گئیں اور پہلے سے دی گئی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت واپس لے لی گئی۔

Comments