Skip to main content
یہ مقدمہ ایک گھریلو تنازع کے نتیجے میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ سے متعلق ہے، جو 22 دسمبر 2017 کو تھانہ فیکٹری ایریا، لاہور کی حدود میں وقوع پذیر ہوا۔ استغاثہ کے مطابق مقتولہ نبیلہ تبسم کی شادی محمد عرفان شاکر سے ہوئی تھی، وہ ایک کمسن بچے کی والدہ تھی اور وقوعہ کے وقت دوبارہ حاملہ بھی تھی۔ مقتولہ اور اس کی ساس غفوراں بی بی کے درمیان گھریلو معاملات پر آئے روز تلخ کلامی اور تنازع رہتا تھا۔وقوعہ کے روز مقتولہ اپنے شوہر کے ہمراہ اپنے بھائی بلال ذوالفقار کے گھر گئی، جہاں سے وہ اپنے سسرال پہنچی۔ سسرال پہنچنے پر مقتولہ اور غفوراں بی بی کے مابین گھریلو امور پر جھگڑا شروع ہوا، جو وقت گزرنے کے ساتھ شدت اختیار کرتا چلا گیا۔ جھگڑے کے دوران غفوراں بی بی نے اپنے بیٹوں کو فون کر کے اطلاع دی کہ مقتولہ اور اس کا بھائی اس کے ساتھ بدسلوکی اور بدتمیزی کر رہے ہیں۔اس اطلاع پر محمد نعمان شاکر، اس کا بھائی عادل رحمان شاکر اور ایک نامعلوم شخص موقع پر پہنچے۔ استغاثہ کے مطابق مقتولہ اور اس کے بھائی کو گھسیٹ کر صحن میں لایا گیا۔ اسی اثناء میں مقتولہ کا دوسرا بھائی وسیم رضا بھی وہاں پہنچ گیا تاکہ صورتحال کو قابو میں لا سکے اور جھگڑے کو رفع دفع کیا جا سکے۔ تاہم حالات مزید بگڑ گئے۔استغاثہ کا مؤقف ہے کہ غفوراں بی بی نے للکارا دیتے ہوئے کہا کہ مقتولہ اور اس کے بھائیوں کو چھوڑا نہ جائے، جس پر محمد نعمان شاکر نے طیش میں آ کر 30 بور پستول سے فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں وسیم رضا کو پیٹ میں دو گولیاں لگیں جبکہ مقتولہ نبیلہ تبسم کو سینے میں ایک گولی لگی۔ مقتولہ کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئی، جبکہ وسیم رضا زخمی حالت میں بچ گیا۔بعد ازاں مقدمہ درج کیا گیا، تفتیش مکمل ہونے پر چالان پیش ہوا اور ٹرائل کورٹ نے محمد نعمان شاکر اور غفوراں بی بی کو مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دے کر سخت سزائیں سنائیں، جبکہ شریک ملزم عادل رحمان شاکر کو بری کر دیا گیا۔ محمد نعمان شاکر کو دی گئی سزائے موت کی توثیق کے لیے ریفرنس لاہور ہائی کورٹ کو ارسال کیا گیا اور ملزمان نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کیں۔لاہور ہائیکورٹ نے اپیلوں اور سزائے موت کے ریفرنس کی سماعت کے دوران اس بنیادی قانونی سوال کا تفصیلی جائزہ لیا کہ آیا محمد نعمان شاکر کی جانب سے فائرنگ نیتِ قتل (intention) کے ساتھ کی گئی یا یہ عمل شدید اور فوری اشتعال (grave and sudden provocation) کے نتیجے میں سرزد ہوا۔ عدالت نے قرار دیا کہ واقعہ ایک اچانک گھریلو جھگڑے کے پس منظر میں پیش آیا، جہاں ملزم کو اپنی والدہ کے ساتھ بدسلوکی اور توہین کی اطلاع ملی، جس سے اس کی جذباتی کیفیت متاثر ہوئی اور معاملہ لمحاتی طور پر شدت اختیار کر گیا۔عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 302(b) تعزیراتِ پاکستان کے اطلاق کے لیے نیتِ قتل یا ایسی مہلک چوٹ پہنچانے کی نیت کا واضح ثبوت ضروری ہوتا ہے، جبکہ دفعہ 302(c) PPC میں یہ کافی ہے کہ ملزم کو اپنے فعل کے ممکنہ مہلک نتائج کا علم ہو۔ زیرِ نظر مقدمہ میں استغاثہ نیتِ قتل ثابت کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا محمد نعمان شاکر کی سزا کو دفعہ 302(b) سے تبدیل کر کے دفعہ 302(c) PPC کے تحت کر دیا گیا اور سزائے موت کی توثیق سے انکار کیا گیا۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ استغاثہ کسی قسم کی پیشگی منصوبہ بندی (premeditation) ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ واقعہ اچانک پیدا ہونے والے حالات، گھریلو کشیدگی اور جذبات کے غلبے کا نتیجہ تھا، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ قتل کا فعل منصوبہ بند نہیں تھا۔طبی شہادت کے حوالے سے عدالت نے نشاندہی کی کہ مقتولہ کو صرف ایک آتشیں زخم لگا جو موت کا سبب بنا، جبکہ باقی زخم معمولی نوعیت کے اور کند آلے سے لگنے والے تھے۔ یہ طبی شواہد بھی اس امر کی تائید کرتے ہیں کہ ملزم کی جانب سے متعدد مہلک وار نیتِ قتل سے نہیں کیے گئے۔جہاں تک غفوراں بی بی کا تعلق ہے، عدالت نے قرار دیا کہ اس کے خلاف کوئی ایسا ٹھوس، قابلِ اعتماد اور براہِ راست ثبوت موجود نہیں جس سے اس کی مشترکہ نیت (Section 34 PPC) یا کسی واضح عملی کردار (overt act) کا ثبوت ملتا ہو۔ محض موقع پر موجود ہونا یا زبانی للکار دینا، بغیر کسی عملی فعل کے، فوجداری ذمہ داری عائد کرنے کے لیے کافی نہیں۔ لہٰذا عدالت نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے اسے بری کر دیا. اسی طرح شریک ملزم عادل رحمان شاکر کی بریت کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے دوہرے قرینۂ معصومیت کے اصول کو مدنظر رکھا اور قرار دیا کہ بریت کے فیصلے میں مداخلت صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ صریحاً خلافِ قانون یا شواہد کی سنگین غلط خوانی پر مبنی ہو، جو اس مقدمہ میں ثابت نہ ہو سکا۔نتیجہ: مندرجہ بالا حقائق اور قانونی نکات کی روشنی میں لاہور ہائیکورٹ نے:محمد نعمان شاکر کی سزا کو دفعہ 302(b) PPC سے تبدیل کر کے دفعہ 302(c) PPC کے تحت 14 سال قیدِ بامشقت میں بدل دیا؛سزائے موت کی توثیق سے انکار کیا؛غفوراں بی بی اور عادل رحمان شاکر کی بریت کو برقرار رکھا۔
Comments
Post a Comment