Skip to main content
یہ مقدمہ ڈاکٹر صائقہ یوسف کے خلاف تھانہ کوہسار، اسلام آباد میں دفعہ 322/34 تعزیراتِ پاکستان کے تحت درج ایف آئی آر سے متعلق ہے، جس کی بنیاد یہ الزام تھا کہ مدعی کی اہلیہ کو ایک نہایت حساس اور ہائی رسک حمل (monochorionic diamniotic twins) کے دوران ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت اور پیشہ ورانہ کوتاہی کے باعث بروقت اور مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کی گئیں، جس کے نتیجے میں جڑواں بچوں کی وفات واقع ہوئی۔درخواست گزار کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ طبی غفلت ایک خالصتاً تکنیکی اور ماہرین کے علم سے متعلق معاملہ ہے، جس کا تعین نہ تو پولیس کر سکتی ہے اور نہ ہی عدالت، جب تک کہ متعلقہ طبی ریگولیٹری اداروں کی واضح، مستند اور حتمی رائے موجود نہ ہو۔ حالانکہ تفتیشی افسر نے PM&DC اور IHRA کو خطوط ارسال کیے، مگر کسی بھی فورم سے یہ تصدیق حاصل نہ ہو سکی کہ درخواست گزار کے کسی فعل یا ترکِ فعل کو قانونی طور پر طبی غفلت یا مجرمانہ لاپرواہی قرار دیا جا سکتا ہے۔عدالت نے اس امر کو غیر معمولی اہمیت دی کہ اسلام آباد میں طبی غفلت سے متعلق معاملات کے لیے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ، 2018 ایک خصوصی قانون ہے، جبکہ ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور نظم و ضبط کے حوالے سے PM&DC ایکٹ، 2022 نافذ العمل ہے۔ ان دونوں قوانین کے ہوتے ہوئے، براہِ راست تعزیراتِ پاکستان کے تحت فوجداری مقدمہ درج کرنا قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، کیونکہ خصوصی قانون عام قانون پر فوقیت رکھتا ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 319 (قتلِ خطا) یا دفعہ 322 (قتل بالسبب) تعزیراتِ پاکستان کے اطلاق کے لیے یہ ثابت کرنا لازمی ہے کہ موت کسی ایسے غیر قانونی فعل یا سنگین غفلت کے نتیجے میں واقع ہوئی جس کی تصدیق ماہرینِ طب کی رپورٹ سے ہو۔ اس مقدمہ میں نہ تو ایسی کوئی رپورٹ موجود تھی اور نہ ہی تفتیش کے دوران اس بنیادی قانونی تقاضے کو پورا کیا گیا۔مزید برآں، مدعی کی جانب سے دائر کردہ استغاثہ(کمپلینٹ) بھی بغیر کسی ماہر طبی رائے کے ملزمان کو طلب کرنا قبل از وقت اور قانونی اصولوں کے برخلاف قرار دیا گیا، کیونکہ اس سے پہلے یہ طے ہونا ضروری تھا کہ آیا واقعی طبی غفلت سرزد ہوئی ہے یا نہیں۔ ان حالات میں عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ ایف آئی آر کا اندراج بذاتِ خود قانونی بنیاد سے محروم ہے اور اس نوعیت کے مقدمہ میں فوجداری کارروائی جاری رکھنا انصاف کے منافی ہوگا۔ چنانچہ عدالت نے دفعہ 561-A ضابطہ فوجداری کے تحت اپنے غیر معمولی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایف آئی آر کو کالعدم قرار دیا۔عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ مدعی کی جانب سے دائر استغاثہ(کمپلینٹ) اس وقت تک معطل رہے گی جب تک IHRA یا PM&DC کی جانب سے طبی غفلت کے حوالے سے کوئی حتمی اور مستند رپورٹ جاری نہیں ہو جاتی۔ فریقین کو ہدایت کی گئی کہ وہ متعلقہ فورمز سے قانونی طریقہ کار کے مطابق ماہر رائے حاصل کریں، جس کے بعد قانون کے مطابق آئندہ کارروائی عمل میں لائی جا سکے گی۔خلاصہ اصول: طبی غفلت کے مقدمات میں فوجداری ذمہ داری عائد کرنے سے قبل ماہرین کی تکنیکی رائے ناگزیر ہے۔ مخصوص طبی قوانین کی موجودگی میں براہِ راست فوجداری مقدمہ درج کرنا درست نہیں۔ اسی بنیاد پر عدالت نے ایف آئی آر کو خارج کرتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کو مقدم رکھا۔ Reported as: 2024 PCrLJ 1852 Islamabad
Comments
Post a Comment