Skip to main content
*سول پریکٹیشنرز کے لیے ایک بہترین تفصیلی جائزہ سیکشن 9 CPC....*سیکشن 9 آف دی سول پروسیجر کوڈ (CPC) سول عدالتوں کے دائرہ اختیار (jurisdiction) سے متعلق ہے۔ یہ سیکشن ان اصولوں کی وضاحت کرتا ہے جن کی بنیاد پر سول عدالتیں کسی مقدمے کی سماعت کر سکتی ہیں۔ اس پر مکمل جامع نوٹس ہر پہلو سے درج ذیل ہیں:سیکشن 9 سی پی سی: متنThe courts shall have jurisdiction to try all suits of a civil nature excepting suits of which their cognizance is either expressly or impliedly barred."اہم نکات:دائرہ کار کا اصول (General Rule of Jurisdiction):سول عدالتیں ان تمام مقدمات کی سماعت کر سکتی ہیں جو "سول نوعیت" (civil nature) کے ہوں۔صرف وہی مقدمے خارج ہیں جنہیں کسی مخصوص قانون کے تحت ممنوع قرار دیا گیا ہو۔سول نوعیت کے مقدمے:ایسے مقدمے جن کا تعلق نجی حقوق (private rights) اور واجبات (obligations) سے ہو، جیسے:جائیداد کے تنازعاتکنٹریکٹ کے مسائلخاندان کے معاملات (وراثت، تقسیم)سول نوعیت کے مقدمے میں کسی فریق کو انصاف کے لیے عدالت میں آنے کا حق ہوتا ہے۔بارڈ مقدمات (Barred Suits):دو قسم کے بارڈ مقدمات:ایکسپریس بارڈ (Expressly Barred): قانون واضح طور پر ان مقدمات کی سماعت سے روکتا ہے، جیسے:ٹیکس معاملات جن کے لیے ٹربیونلز مقرر ہیں۔فوجی معاملات جو عدالتِ مارشل کے دائرے میں آتے ہیں۔امپلائیڈ بارڈ (Impliedly Barred): ایسے مقدمات جو کسی مخصوص قانون کے دائرہ کار میں آتے ہیں یا پبلک پالیسی کے خلاف ہوں، جیسے:مذہبی رسوم یا عقائد پر مبنی مقدمات۔اصولی حدود:اگر سول نوعیت کے مقدمے کو کوئی مخصوص فورم تفویض کیا گیا ہے، تو سول عدالتوں کا دائرہ کار محدود ہو جاتا ہے۔عدالت کا دائرہ کار تبھی روکا جا سکتا ہے جب واضح قانون یا مخصوص حالات موجود ہوں۔اہم عدالتی نظائر (Case Laws):مہاراجہ دھیرجہ کرشنا سنگھ کیس:عدالت نے وضاحت کی کہ کسی تنازع کے "سول نوعیت" ہونے کا فیصلہ اس کے حقائق پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ اس کے دعوے پر۔موٹس موہن لال کیس:عدالت نے کہا کہ اگر مقدمہ کسی کے قانونی حق کو متاثر کرتا ہے، تو وہ سول نوعیت کا ہے۔عبدالغنی و دیگر بنام فضل الرحیم اس مقدمے میں وضاحت کی گئی کہ "ایکسپریس بارڈ" اور "امپلائیڈ بارڈ" کا اطلاق کن حالات میں ہوگا۔اہم پہلو:1. سیکشن 9 کا مقصد:افراد کو انصاف فراہم کرنا اور ان کے قانونی حقوق کا تحفظ کرنا۔عدالت کے دائرہ کار کو وسیع کرنا تاکہ انصاف تک رسائی ممکن ہو۔2. سیکشن 9 اور خصوصی قوانین:بعض معاملات میں، خصوصی قوانین کے تحت خصوصی ٹربیونلز قائم کیے جاتے ہیں، جیسے:لیبر قوانین کے تحت لیبر کورٹ۔ٹیکس قوانین کے تحت ٹیکس ٹربیونلز۔ان معاملات میں سول عدالتیں مداخلت نہیں کر سکتیں۔3. ریلیف کی نوعیت:اگر مقدمہ ریلیف طلب کرتا ہے جو قانون کے مطابق ہو، تو عدالت اسے سن سکتی ہے۔غیر قانونی یا پبلک پالیسی کے خلاف ریلیف سول عدالتیں فراہم نہیں کر سکتیں۔4. متوازی عدالتی نظام:سیکشن 9 خصوصی اور عمومی عدالتی دائرہ کار کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔خلاصہ:سیکشن 9 سی پی سی سول عدالتوں کے دائرہ کار کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔یہ قانون واضح کرتا ہے کہ تمام سول نوعیت کے مقدمے سول عدالت کے دائرہ کار میں آتے ہیں، جب تک کہ انہیں کسی قانون کے تحت ممنوع نہ کیا گیا ہو۔عدالت کو مقدمے کے سول نوعیت کے ہونے کا تعین کرنے کے لیے حقائق اور حالات کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔یہ سیکشن انصاف کی فراہمی میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور قانونی نظام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے...
Comments
Post a Comment