Skip to main content
یہ فوجداری اپیل اُس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی جس کے تحت ٹرائل کورٹ نے ملزم اشفاق عرف سلیم کو سیکشن 9(1)(c) کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنسز ایکٹ، 1997 کے تحت 2180 گرام چرس برآمد ہونے کے الزام میں نو سال قیدِ بامشقت اور جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ استغاثہ کے مطابق مورخہ 09-11-2022 کو پولیس پارٹی نے خفیہ اطلاع پر ملزم کو گرفتار کیا، اس کی ذاتی تلاشی کے دوران دو پیکٹس میں چرس برآمد ہوئی، جن میں سے نمونے علیحدہ کر کے سیل کیے گئے اور بعد ازاں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی، لاہور کو بھجوائے گئے۔ تفتیش مکمل ہونے پر چالان عدالت میں پیش کیا گیا اور ٹرائل کے بعد ملزم کو مجرم قرار دیا گیا۔ہائیکورٹ نے اپیل کی سماعت کے دوران ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ استغاثہ مقدمہ کو بلا شک و شبہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ عدالت کے نزدیک سب سے بنیادی نقص یہ تھا کہ استغاثہ نمونہ جات اور کیس پراپرٹی کی محفوظ تحویل اور مسلسل ترسیل (Chain of Custody) کو ہر مرحلہ پر ثابت نہ کر سکا۔ مَلخانۂ تحویل، موحررین اور تفتیشی افسر کے بیانات میں واضح تضادات پائے گئے، جن سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ آیا برآمد شدہ منشیات واقعی اسی حالت میں فرانزک لیبارٹری تک پہنچی جیسا کہ موقع پر دکھایا گیا تھا۔عدالت نے خاص طور پر اس امر کو سنگین قرار دیا کہ شکایت کنندہ اور دیگر اہم گواہوں کے بیانات دفعہ 161 ضابطہ فوجداری کے تحت غیر معمولی اور ناقابلِ توجیہہ تاخیر سے ریکارڈ کیے گئے۔ منشیات کے مقدمات میں، جہاں سزا کی نوعیت سخت ہوتی ہے، وہاں بروقت بیانات کی عدم موجودگی استغاثہ کے پورے مقدمے کو مشکوک بنا دیتی ہے، کیونکہ ایسی تاخیر سے مشاورت، بعد ازاں بہتری (improvement) اور من گھڑت بیانیہ ترتیب دینے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے نزدیک اس تاخیر نے استغاثہ کے مقدمے کی ساکھ کو بنیادی طور پر مجروح کیا۔مزید برآں عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بعض کلیدی گواہوں کے بیانات تفتیش کے دوران سرے سے ریکارڈ ہی نہیں کیے گئے، جو کہ ایک سنگین تفتیشی کوتاہی ہے۔ قانون کا تقاضا ہے کہ تمام مادی گواہوں کے بیانات دفعہ 161 ضابطہ فوجداری کے تحت ریکارڈ کیے جائیں تاکہ ملزم کو منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل رہے۔ ایسے گواہوں کا پہلی مرتبہ عدالت میں پیش ہونا، بغیر کسی سابقہ بیان کے، ملزم کے لیے واضح طور پر باعثِ نقصان اور قانونی تعصب (prejudice) کا موجب بنتا ہے۔عدالت نے اس اصول کو بھی دہرایا کہ جب نمونہ جات کی محفوظ تحویل اور ترسیل ثابت نہ ہو تو کیمیکل ایگزامینر یا فرانزک رپورٹ بھی قابلِ اعتماد نہیں رہتی۔ کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنسز ایکٹ، 1997 کے تحت چونکہ سزائیں سخت اور نتائج سنگین ہوتے ہیں، اس لیے استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ اعلیٰ ترین معیار کی شہادت پیش کرے اور چین آف کسٹڈی کو ناقابلِ انقطاع انداز میں ثابت کرے، جو کہ موجودہ مقدمے میں نہ ہو سکا۔عدالت نے قرار دیا کہ فوجداری قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ ملزم پر الزام ثابت کرنے کی ذمہ داری مکمل طور پر استغاثہ پر ہوتی ہے اور ملزم کسی بھی مرحلے پر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا پابند نہیں۔ اگر مقدمے میں ایک بھی ایسا پہلو موجود ہو جو ایک سمجھدار ذہن میں معقول شک پیدا کرے تو اس شک کا فائدہ لازماً ملزم کو دیا جاتا ہے۔ زیرِ نظر مقدمہ متعدد ایسے نقائص اور تضادات سے بھرپور تھا جنہوں نے استغاثہ کے مؤقف کو ناقابلِ اعتماد بنا دیا۔ان وجوہات کی بنا پر عدالتِ عالیہ نے اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا، ملزم کو الزام سے بری کر دیا اور اس کی فوری رہائی کا حکم صادر کیا، بشرطیکہ وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہو۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ برآمد شدہ منشیات قانون کے مطابق تلف کی جائے۔ یہ فیصلہ اس اصول کی ایک واضح مثال ہے کہ منشیات کے مقدمات میں معمولی سی تفتیشی لغزش بھی استغاثہ کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے اور ہر معقول شک کا فائدہ ملزم کو دیا جانا فوجداری انصاف کا بنیادی تقاضہ ہے
Comments
Post a Comment