Skip to main content
⚖️ لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: کیا محض موبائل کال ریکارڈ (CDR) سزا کے لیے کافی ہے؟ ⚖️لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے ایک مقدمے (The State Vs. Sheikh Muhammad Awais) کا فیصلہ سناتے ہوئے ڈیجیٹل ثبوتوں اور "اتفاقی گواہوں" کے حوالے سے چند انتہائی اہم قانونی اصول واضح کر دیے ہیں۔ جسٹس فاروق حیدر صاحب کا یہ فیصلہ فوجداری قانون میں ایک نئی سمت متعین کرتا ہے۔اس فیصلے کے 3 بڑے قانونی نکات:📍 1. صرف CDR ثبوت کے طور پر ناکافی ہے:عدالت نے قرار دیا کہ محض کال ڈیٹا ریکارڈ (CDR) پیش کر دینا کافی نہیں ہے۔ جب تک سیلولر کمپنی اس ریکارڈ کی تصدیق نہ کرے اور کال کے دوران ہونے والی گفتگو کا وائس ٹرانسکرپٹ (Voice Transcript) یا فرانزک آڈٹ موجود نہ ہو، تب تک یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ فون پر کیا بات ہوئی تھی۔ محض کال کا ریکارڈ ہونا کسی جرم کو ثابت نہیں کرتا۔📍 2. اتفاقی گواہ (Chance Witness) کی حیثیت:اگر گواہان یا مدعی مقدمہ کا جائے وقوعہ پر ہونا "اتفاقی" ہو، تو ان کی گواہی کو "Suspect Evidence" (مشکوک شہادت) مانا جائے گا۔ ایسی گواہی کو تب تک تسلیم نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ کوئی دوسرا آزادانہ اور ٹھوس ثبوت ان کی جائے وقوعہ پر موجودگی کی تصدیق نہ کر دے۔📍 3. موقع واردات ثابت نہ ہونا "مہلک" ہے:اگر پراسیکیوشن مقدمے کی سماعت کے دوران وہ جگہ (Place of Occurrence) ثابت نہ کر سکے جہاں جرم ہوا ہے، تو یہ پراسیکیوشن کے کیس کے لیے "Fatal" (مہلک) ہے اور ملزم کو اس کا فائدہ ملنا لازم ہے۔📖 کیس حوالہ: 2026 LHC 17👨جج: جسٹس فاروق حیدر📅 تاریخ فیصلہ: 13 جنوری 2026📱 سی ڈی آر (CDR) اور قانون: کیا صرف موبائل ریکارڈ آپ کو مجرم ثابت کر سکتا ہے؟اکثر فوجداری مقدمات میں پولیس اور استغاثہ (Prosecution) موبائل فون کے کال ڈیٹا ریکارڈ (Call Data Record) کو سب سے بڑا ثبوت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ لیکن کیا قانون کی نظر میں یہ ریکارڈ اکیلا کسی کو سزا دلوانے کے لیے کافی ہے؟ لاہور ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے نے اس پر تمام ابہام دور کر دیے ہیں۔🔍 سی ڈی آر (CDR) کیا ہے اور کیا نہیں؟پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ CDR صرف یہ بتاتا ہے کہ کس نمبر سے کس نمبر پر، کس وقت اور کتنی دیر بات ہوئی۔ یہ ریکارڈ یہ نہیں بتاتا کہ فون پر بات کیا ہوئی۔⚖️ عدالت کا فیصلہ اور قانونی اصوللاہور ہائیکورٹ نے 2026 LHC 17 میں درج ذیل اہم نکات واضح کیے ہیں:وائس ٹرانسکرپٹ کے بغیر CDR کی اہمیت: عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر کال کے دوران ہونے والی گفتگو کا فرانزک شدہ وائس ٹرانسکرپٹ (Voice Transcript) موجود نہ ہو، تو صرف CDR سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ ملزم نے فون پر کیا کہا تھا۔تصدیق کا فقدان: متعلقہ سیلولر کمپنی سے تصدیق شدہ نہ ہونے کی صورت میں CDR کی قانونی حیثیت مشکوک ہو جاتی ہے۔ محض ریکارڈ کا پیش کر دینا فون کال کے مندرجات (Contents) کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔اتفاقی گواہ (Chance Witness): اگر گواہان کی جائے وقوعہ پر موجودگی کی کوئی ٹھوس وجہ نہ ہو اور وہ محض "اتفاقاً" وہاں موجود ہوں، تو ان کی گواہی "Suspect Evidence" (مشکوک شہادت) کہلائے گی جسے بغیر کسی مضبوط تائیدی ثبوت کے قبول نہیں کیا جائے گا۔🏛️ جائے وقوعہ کی اہمیتعدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر استغاثہ مقدمے کے دوران وہ جائے وقوعہ (Place of Occurrence) ثابت کرنے میں ناکام رہے جہاں جرم ہوا، تو یہ پورے کیس کے لیے مہلک (Fatal) ثابت ہوتا ہے۔💡 نتیجہڈیجیٹل شواہد کی دنیا میں صرف ریکارڈ کا ہونا کافی نہیں، بلکہ اس کا فرانزک معیار پر پورا اترنا اور اس کے مندرجات کا ثابت ہونا لازمی ہے۔ بصورتِ دیگر، شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو ملتا ہے۔
Comments
Post a Comment