Skip to main content
برطرفی کے بعد تنخواہ اور بقایا جات — سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہسپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بنچ نے ایک نہایت اہم اور دور رس اثرات رکھنے والا فیصلہ جاری کیا ہے جس میں واضح کر دیا گیا ہے کہ برطرفی کے بعد بحالی (Reinstatement) کی صورت میں بیک بینیفٹس (Back Pay / Arrears) دینا محض صوابدید نہیں بلکہ انصاف کے اصولوں سے جڑا معاملہ ہے۔عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے میں پولیس افسران کی برطرفی کے بعد بحالی اور بقایا تنخواہوں کا معاملہ زیرِ غور آیا۔ بنیادی سوال یہ تھا کہ: کیا برطرفی کالعدم ہونے کے بعد ملازم خود بخود مکمل تنخواہ اور مراعات کا حقدار بن جاتا ہے؟ سپریم کورٹ کا واضح مؤقفعدالت نے قرار دیا کہ:محض بحالی (Reinstatement) کافی نہیں اگر برطرفی غلط (Wrongful) یا بے بنیاد ثابت ہو جائے تو مکمل بیک پے دینا اصولی حق ہے“No work, no pay” کا اصول ہر صورت لاگو نہیں ہوتا اہم قانونی نکتہعدالت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A (Fair Trial) کی روشنی میں کہا کہ:اب ریاستی ادارے صرف اختیار (Authority) کی بنیاد پر فیصلے نہیں کر سکتے،بلکہ انہیں ہر فیصلے کی معقول اور قانونی توجیہ (Justification) دینا ہو گی۔یعنی: صوابدید من مانی نہیں ہو سکتی. ہر فیصلہ Reasoned اور Fair ہونا لازمی ہے بیک پے کے بارے میں اصولعدالت نے درج ذیل اصول وضع کیے:اگر ملازم بے گناہ ثابت ہو جائے تو اسے مکمل بیک پے اصولاً دیا جائے گا۔ اگر ادارہ یہ دعویٰ کرے کہ ملازم نے اس دوران کوئی اور نوکری کی تو ثبوت دینا ادارے کی ذمہ داری ہےطویل عدالتی کارروائی کا نقصان ملازم کو نہیں بھگتنا پڑے گا۔ آئینی پہلوعدالت نے قرار دیا کہ:غلط برطرفی صرف انتظامی غلطی نہیں بلکہآرٹیکل 9 (حقِ زندگی) کی خلاف ورزی بھی ہو سکتی ہےکیونکہ روزگار چھین لینا، زندگی کے وسائل چھیننے کے مترادف ہے۔
Comments
Post a Comment