Posts

فریادی‘، ’مدعی‘ اور ’بخدمت جناب SHO‘ پر بڑا فیصلہسپریم کورٹ نے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے قرار دیا کہ:❌ شہری کو “فریادی” یا “مدعی” کہنا غلط، غیر آئینی اور توہین آمیز ہے✔️ درست قانونی اصطلاح “اطلاع دہندہ (Informant)” ہےعدالت کے مطابق:شہری بھیک مانگنے نہیں آتاپولیس عوام کی خادم ہے، حاکم نہیں“بخدمت جناب SHO” جیسی اصطلاحات نوآبادیاتی ذہنیت کی باقیات ہیں🔔 آئندہ:پولیس ریکارڈ میں “فریادی” اور “مدعی” کے الفاظ استعمال نہیں ہوں گےSHO کو درخواست صرف “جناب SHO” لکھ کر دی جائے گی📌 عدالتی ہدایات:🔹 تمام صوبوں کے IGPs کو فوری ایف آئی آر کے اندراج کا حکم🔹 تاخیر کرنے والے پولیس افسر کے خلاف:فوجداری مقدمہمحکمانہ کارروائی دونوں ہو سکیں گی🔹 سندھ میں خاص طور پر اس عمل کی سخت نگرانی کا حکم🟢 یہ فیصلہ کیوں تاریخی ہے؟یہ فیصلہ: ✔️ شہری کی عزتِ نفس (Article 14) کا تحفظ کرتا ہے✔️ فوری انصاف (Article 10-A) کو مضبوط بناتا ہے✔️ پولیس کو جوابدہ بناتا ہے✔️ نوآبادیاتی اور جاگیردارانہ سوچ کا خاتمہ کرتا ہے✍️ نتیجہ:اب شہری پولیس کے سامنے کمزور نہیں بلکہ صاحبِ حق ہے۔اب ایف آئی آر میں تاخیر صرف غلطی نہیں، جرم بھی بن سکتی ہے۔

⚖️ لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: کیا محض موبائل کال ریکارڈ (CDR) سزا کے لیے کافی ہے؟ ⚖️​لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے ایک مقدمے (The State Vs. Sheikh Muhammad Awais) کا فیصلہ سناتے ہوئے ڈیجیٹل ثبوتوں اور "اتفاقی گواہوں" کے حوالے سے چند انتہائی اہم قانونی اصول واضح کر دیے ہیں۔ جسٹس فاروق حیدر صاحب کا یہ فیصلہ فوجداری قانون میں ایک نئی سمت متعین کرتا ہے۔​اس فیصلے کے 3 بڑے قانونی نکات:​📍 1. صرف CDR ثبوت کے طور پر ناکافی ہے:عدالت نے قرار دیا کہ محض کال ڈیٹا ریکارڈ (CDR) پیش کر دینا کافی نہیں ہے۔ جب تک سیلولر کمپنی اس ریکارڈ کی تصدیق نہ کرے اور کال کے دوران ہونے والی گفتگو کا وائس ٹرانسکرپٹ (Voice Transcript) یا فرانزک آڈٹ موجود نہ ہو، تب تک یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ فون پر کیا بات ہوئی تھی۔ محض کال کا ریکارڈ ہونا کسی جرم کو ثابت نہیں کرتا۔​📍 2. اتفاقی گواہ (Chance Witness) کی حیثیت:اگر گواہان یا مدعی مقدمہ کا جائے وقوعہ پر ہونا "اتفاقی" ہو، تو ان کی گواہی کو "Suspect Evidence" (مشکوک شہادت) مانا جائے گا۔ ایسی گواہی کو تب تک تسلیم نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ کوئی دوسرا آزادانہ اور ٹھوس ثبوت ان کی جائے وقوعہ پر موجودگی کی تصدیق نہ کر دے۔​📍 3. موقع واردات ثابت نہ ہونا "مہلک" ہے:اگر پراسیکیوشن مقدمے کی سماعت کے دوران وہ جگہ (Place of Occurrence) ثابت نہ کر سکے جہاں جرم ہوا ہے، تو یہ پراسیکیوشن کے کیس کے لیے "Fatal" (مہلک) ہے اور ملزم کو اس کا فائدہ ملنا لازم ہے۔​📖 کیس حوالہ: 2026 LHC 17👨‍جج: جسٹس فاروق حیدر📅 تاریخ فیصلہ: 13 جنوری 2026​📱 سی ڈی آر (CDR) اور قانون: کیا صرف موبائل ریکارڈ آپ کو مجرم ثابت کر سکتا ہے؟​اکثر فوجداری مقدمات میں پولیس اور استغاثہ (Prosecution) موبائل فون کے کال ڈیٹا ریکارڈ (Call Data Record) کو سب سے بڑا ثبوت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ لیکن کیا قانون کی نظر میں یہ ریکارڈ اکیلا کسی کو سزا دلوانے کے لیے کافی ہے؟ لاہور ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے نے اس پر تمام ابہام دور کر دیے ہیں۔​🔍 سی ڈی آر (CDR) کیا ہے اور کیا نہیں؟​پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ CDR صرف یہ بتاتا ہے کہ کس نمبر سے کس نمبر پر، کس وقت اور کتنی دیر بات ہوئی۔ یہ ریکارڈ یہ نہیں بتاتا کہ فون پر بات کیا ہوئی۔​⚖️ عدالت کا فیصلہ اور قانونی اصول​لاہور ہائیکورٹ نے 2026 LHC 17 میں درج ذیل اہم نکات واضح کیے ہیں:​وائس ٹرانسکرپٹ کے بغیر CDR کی اہمیت: عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر کال کے دوران ہونے والی گفتگو کا فرانزک شدہ وائس ٹرانسکرپٹ (Voice Transcript) موجود نہ ہو، تو صرف CDR سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ ملزم نے فون پر کیا کہا تھا۔​تصدیق کا فقدان: متعلقہ سیلولر کمپنی سے تصدیق شدہ نہ ہونے کی صورت میں CDR کی قانونی حیثیت مشکوک ہو جاتی ہے۔ محض ریکارڈ کا پیش کر دینا فون کال کے مندرجات (Contents) کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔​اتفاقی گواہ (Chance Witness): اگر گواہان کی جائے وقوعہ پر موجودگی کی کوئی ٹھوس وجہ نہ ہو اور وہ محض "اتفاقاً" وہاں موجود ہوں، تو ان کی گواہی "Suspect Evidence" (مشکوک شہادت) کہلائے گی جسے بغیر کسی مضبوط تائیدی ثبوت کے قبول نہیں کیا جائے گا۔​🏛️ جائے وقوعہ کی اہمیت​عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر استغاثہ مقدمے کے دوران وہ جائے وقوعہ (Place of Occurrence) ثابت کرنے میں ناکام رہے جہاں جرم ہوا، تو یہ پورے کیس کے لیے مہلک (Fatal) ثابت ہوتا ہے۔​💡 نتیجہ​ڈیجیٹل شواہد کی دنیا میں صرف ریکارڈ کا ہونا کافی نہیں، بلکہ اس کا فرانزک معیار پر پورا اترنا اور اس کے مندرجات کا ثابت ہونا لازمی ہے۔ بصورتِ دیگر، شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو ملتا ہے۔​

برطرفی کے بعد تنخواہ اور بقایا جات — سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہسپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بنچ نے ایک نہایت اہم اور دور رس اثرات رکھنے والا فیصلہ جاری کیا ہے جس میں واضح کر دیا گیا ہے کہ برطرفی کے بعد بحالی (Reinstatement) کی صورت میں بیک بینیفٹس (Back Pay / Arrears) دینا محض صوابدید نہیں بلکہ انصاف کے اصولوں سے جڑا معاملہ ہے۔عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے میں پولیس افسران کی برطرفی کے بعد بحالی اور بقایا تنخواہوں کا معاملہ زیرِ غور آیا۔ بنیادی سوال یہ تھا کہ: کیا برطرفی کالعدم ہونے کے بعد ملازم خود بخود مکمل تنخواہ اور مراعات کا حقدار بن جاتا ہے؟ سپریم کورٹ کا واضح مؤقفعدالت نے قرار دیا کہ:محض بحالی (Reinstatement) کافی نہیں اگر برطرفی غلط (Wrongful) یا بے بنیاد ثابت ہو جائے تو مکمل بیک پے دینا اصولی حق ہے“No work, no pay” کا اصول ہر صورت لاگو نہیں ہوتا اہم قانونی نکتہعدالت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A (Fair Trial) کی روشنی میں کہا کہ:اب ریاستی ادارے صرف اختیار (Authority) کی بنیاد پر فیصلے نہیں کر سکتے،بلکہ انہیں ہر فیصلے کی معقول اور قانونی توجیہ (Justification) دینا ہو گی۔یعنی: صوابدید من مانی نہیں ہو سکتی. ہر فیصلہ Reasoned اور Fair ہونا لازمی ہے بیک پے کے بارے میں اصولعدالت نے درج ذیل اصول وضع کیے:اگر ملازم بے گناہ ثابت ہو جائے تو اسے مکمل بیک پے اصولاً دیا جائے گا۔ اگر ادارہ یہ دعویٰ کرے کہ ملازم نے اس دوران کوئی اور نوکری کی تو ثبوت دینا ادارے کی ذمہ داری ہےطویل عدالتی کارروائی کا نقصان ملازم کو نہیں بھگتنا پڑے گا۔ آئینی پہلوعدالت نے قرار دیا کہ:غلط برطرفی صرف انتظامی غلطی نہیں بلکہآرٹیکل 9 (حقِ زندگی) کی خلاف ورزی بھی ہو سکتی ہےکیونکہ روزگار چھین لینا، زندگی کے وسائل چھیننے کے مترادف ہے۔

یہ مکمل ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:یہ امر قانوناً طے شدہ ہے کہ آرڈر XVII رول 3 ضابطہ دیوانی (CPC) کے تحت کسی فریق کے حقِ شہادت کو بند کرنا اور دعویٰ خارج کرنا، اگر قانونی تقاضوں کی پاسداری کے بغیر اور قصوروار فریق کو مؤثر، بامعنی اور حقیقی موقع دیے بغیر کیا جائے، تو نہ تو ایسا اقدام قانونی طور پر پائیدار ہے اور نہ ہی یہ اصولِ انصافِ فطری (Natural Justice) سے ہم آہنگ ہے۔ بالخصوص ایسی صورت میں جب شہادت پہلے ہی ریکارڈ پر آ چکی ہو یا فریق یا اس کا گواہ عدالت میں موجود ہو اور کارروائی کے لیے تیار ہو، تو ایسا طرزِ عمل قطعی طور پر ناقابلِ اجازت ہے۔یہ بھی مسلمہ اصول ہے کہ ضابطہ جاتی قانون (Procedural Law) کا مقصد انصاف کے تقاضوں کو آگے بڑھانا ہے، نہ کہ کسی فریق کو محض فنی بنیادوں پر سزا دیتے ہوئے اس کے مقدمہ کا فیصلہ میرٹ پر ہونے سے روک دینا۔ آرڈر XVII رول 3 ضابطہ دیوانی کے تحت اختیارات کا ایسا استعمال، جس کے نتیجے میں پہلے سے پیش کی گئی شہادت کو پرکھے بغیر کسی فریق کو کارروائی سے باہر کر دیا جائے، دائرۂ اختیار کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔موجودہ مقدمہ میں، جہاں اپیل کنندہ کے گواہ نے اپنی حلفیہ شہادت بمعہ دستاویزی ریکارڈ پہلے ہی داخل کر دی تھی اور وہ متعلقہ تاریخ پر معزز ٹرائل کورٹ کے روبرو باقاعدہ موجود تھا، وہاں عدالت پر لازم تھا کہ وہ قانونی طور پر اسے جرح کے لیے پیش ہونے کا کہتی اور یہ امر اپنے حکم نامہ (Order Sheet) میں بھی درج کرتی کہ فریق کو موقع دیا گیا تھا جس سے اس نے فائدہ نہیں اٹھایا۔ اس کے برعکس، ایسی شہادت کو یکسر مسترد کر دینا، مزید شہادت پیش کرنے کا حق بند کرنا اور دعویٰ کو آرڈر XVII رول 3 ضابطہ دیوانی کے تحت خارج کر دینا، واضح طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس طے شدہ قانون کے منافی ہے جو مقدمہ Syed Tahir Hussain Mehmoodi and others v. Agha Syed Liaqat Ali and others (2014 SCMR 637) میں وضع کیا گیا۔شہری حقوق و ذمہ داریوں کے تعین کے لیے منصفانہ سماعت اور قانونی طریقۂ کار (Fair Trial & Due Process) کا حق ایک مسلمہ آئینی حکم ہے جو آرٹیکل 10-اے، آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973ء میں صراحتاً محفوظ کیا گیا ہے۔RFA نمبر 66044/2025سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ بنام ایم/ایس ویلیو سی این جیتاریخِ سماعت: 12.01.2026حوالہ: 2026 LHC 53