Posts

📢 اہم ترین اطلاع: پنجاب میں زمین کے انتقال کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی!بورڈ آف ریونیو، پنجاب نے مورخہ 30 دسمبر 2025 کو ایک انتہائی اہم نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت زمینوں کے انتقال (Mutation) کے پرانے نظام میں بڑی قانونی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔🚫 زبانی انتقال (Oral Mutation) کا خاتمہ:اب زمین کے کسی بھی لین دین کا انتقال محض زبانی بیان یا اورل ٹرانزیکشن کی بنیاد پر درج یا منظور نہیں کیا جائے گا۔✅ رجسٹری اب لازمی شرط ہے:مندرجہ ذیل 4 صورتوں میں زمین کا انتقال کروانے سے پہلے رجسٹری (Registered Instrument) کروانا قانونی طور پر لازمی قرار دے دیا گیا ہے:1️⃣ بیع (Sale) - خرید و فروخت2️⃣ رہن (Mortgage) - زمین گروی رکھنا/لون3️⃣ تبادلہ (Exchange) - زمین کا تبادلہ4️⃣ ہبہ (Gift) - تحفہ⚠️ صرف ایک استثنیٰ (Exception):یہ پابندی صرف وراثت (Inheritance) کے انتقالات پر لاگو نہیں ہوگی۔ وراثت کا انتقال بدستور پرانے طریقہ کار/قانون کے مطابق ہوتا رہے گا۔عوام الناس کے لیے پیغام:اگر آپ زمین کی خرید و فروخت، گفٹ یا تبادلہ کر رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ اب پٹواری یا ریونیو افسر کے پاس براہِ راست زبانی بیان پر انتقال نہیں ہوگا، بلکہ پہلے آپ کو سب رجسٹرار کے پاس رجسٹری کروانی ہوگی، اس کے بعد انتقال درج ہوگا۔(منجانب: بورڈ آف ریونیو، پنجاب)

قانونی اصطلاح (Per Incuriam) لاطینی زبان سے ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی “غفلت میں دیا گیا فیصلہ” یا “قانون سے ناواقفیت میں صادر کیا گیا حکم” کے ہیں۔ یہ اصطلاح عدالتی نظام میں اس وقت استعمال ہوتی ہے جب کسی فیصلے میں واضح قانونی اصولوں یا لازم الاتباع قوانین کو نظرانداز کیا گیا ہو۔قانونی مفہوم میں Per Incuriam اس عدالتی فیصلے کو کہا جاتا ہے جو کسی واضح قانونی دفعہ، کسی متعلقہ آئینی شق، یا کسی سابقہ لازم الاتباع عدالتی نظیر (binding precedent) کو نظر میں لائے بغیر صادر کیا گیا ہو۔ ایسا فیصلہ قانونی اعتبار سے کمزور سمجھا جاتا ہے اور بعض حالات میں اسے نظیر کے طور پر تسلیم کرنا ضروری نہیں ہوتا۔قانون کا عمومی اصول یہ ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے زیریں عدالتوں کے لیے لازم الاتباع ہوتے ہیں، تاہم اگر کسی فیصلے کو Per Incuriam قرار دے دیا جائے تو وہ اس اصول سے مستثنیٰ ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا فیصلہ پابند نظیر نہیں رہتا اور بعد کی عدالتیں اس پر عمل کرنے کی پابند نہیں ہوتیں۔کسی فیصلے کو Per Incuriam قرار دینے کی چند اہم وجوہات ہو سکتی ہیں، مثلاً متعلقہ قانونی دفعہ کو نظرانداز کرنا، سپریم کورٹ یا کسی بڑی بنچ کے واضح اور پہلے سے موجود فیصلے کو نظر میں نہ لانا، کسی لازمی آئینی شق سے لاعلمی یا غفلت برتنا، یا کسی ایسے قانون پر انحصار کرنا جو پہلے ہی منسوخ یا غیر مؤثر ہو چکا ہو۔یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ہر غلط فیصلہ Per Incuriam نہیں ہوتا۔ اس اصول کا اطلاق صرف اسی صورت میں ہوتا ہے جب غفلت واضح، بنیادی اور قانونی لحاظ سے اہم نوعیت کی ہو۔ محض قانونی تشریح میں اختلاف یا مختلف رائے کا ہونا کسی فیصلے کو Per Incuriam قرار دینے کے لیے کافی نہیں ہوتا۔عملی طور پر Per Incuriam کا تصور عدالتی نظام میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے غلط قانونی نظیروں کے پھیلاؤ کو روکا جاتا ہے، قانون کی بالادستی (Rule of Law) کو برقرار رکھا جاتا ہے اور انصاف کے تقاضوں کو بہتر انداز میں پورا کیا جاتا ہے۔نتیجتاً، Per Incuriam ایک بنیادی قانونی اصول ہے جو عدالتی فیصلوں کے معیار اور قانونی درستگی کو جانچنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ اصول اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ قانون اور لازم الاتباع عدالتی نظائر کو نظرانداز کر کے دیے گئے فیصلے عدالتی نظام کو گمراہ نہ کریں اور انصاف کا حقیقی مقصد مؤثر طور پر حاصل ہو سکے۔

لاہور ہائیکورٹ نے بھائی بہن کے درمیان 16 سال پرانا وراثتی جائیداد کا تنازع حل کردیا۔عدالت نے وراثتی جائیداد سے بہن کو حصہ دینے کا سیشن کورٹ کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے بھائی کا وراثتی جائیداد زبانی تحفے میں ملنے کا دعویٰ مسترد کردیا۔جاری کردہ فیصلے کے مطابق درخواست گزار کا کہنا ہے کہ والد نے 2009 میں ساری جائیداد زبانی تحفے کے ذریعے اس کے نام کردی۔ تاہم درخواست گزار زبانی تحفے میں ملنے والی جائیداد کے ثبوت پیش نہیں کرسکا۔فیصلے میں کہا گیا کہ بھائی نے اپنے حق میں زبانی تحفے کے ذریعے بہن کو وراثتی جائیداد میں حصے سے محروم کیا۔ زبانی تحفے کا بینفشری ہونے کے ناطے درخواست گزار کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحفے کو ثابت کرے۔ درخواست گزار نہیں بتا سکا کہ تحفہ کب، کہاں، کس وقت اور کن گواہوں کی موجودگی میں دیا گیا۔فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے اعتراض عائد کیا کہ بہن نے تاخیر سے دعویٰ دائر کیا۔ بھائی غیر قانونی طور پر مرحوم باپ کی وراثتی جائیداد سے بہن کا حق ہتھیانے کی کوشش کر رہا تھا۔فیصلے میں کہا گیا کہ وراثتی حق سے متعلق دعویٰ محض مدتِ معیاد کی بنیاد پر ناقابلِ سماعت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ والد کے انتقال کے بعد 2009 میں وراثتی جائیداد بھائی اور بہن کو منتقل ہوئی۔ لہٰذا عدالت درخواست گزار کی اپیل کو میرٹ پر مسترد کرتی ہے۔ C.R. No.1196 of 2023Muhammad Riaz v/s Mst. Najma Bibi

ریکارڈ پر موجود رجسٹر نمبر 19 کے مطابق 13-02-2025 کو مبینہ برآمد شدہ منشیات اور اس کے نمونے تفتیشی افسر نے محرر تھانہ کے حوالے کیے۔ درخواست مورخہ 13-02-2025 سے ظاہر ہے کہ نمونے سات دن کی تاخیر سے، رسید نمبر 34 مورخہ 20-02-2025 کے تحت کانسٹیبل فضل حسین کے ذریعے ایف ایس ایل پشاور بھجوائے گئے، حالانکہ قواعد کے مطابق نمونے 72 گھنٹوں کے اندر ارسال ہونا لازم تھے۔ مزید برآں رجسٹر نمبر 21 ریکارڈ پر پیش نہیں کیا گیا جس سے نمونوں کی محفوظ ترسیل ثابت ہو سکے۔ چالان تیار ہو چکا ہے مگر پندرہ دن گزرنے کے باوجود ایف ایس ایل رپورٹ دستیاب نہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے مزید 10درخواستوں پر ڈی سیز کی کاروائی کو روک دیاسرکاری وکیل صاحب بار بار پوچھ رہی ہوں بتائیں کہ ہائیکورٹ کے حکم امتناعی کے باوجود کمیٹیاں کیسے کاروائی کررہی ہیں ؟ چیف جسٹس اب آپ کو نتائج کے لیے تیار رہنا چاہیں آپ انارکی پھیلا رہے ہیں چیف جسٹس عالیہ نیلم آرڈنینس میں کہاں لکھا ہے کہ ڈی سی ٹربیونل کے اختیار استعمال کرے گا ؟ چیف جسٹس پنجاب حکومت کا وکیل عدالت میں کوئی جواب نہ دے سکا آپ کے پاس میرے کسی سوال کا جواب نہیں چیف جسٹسآپکا قانون تھا کہ سول کورٹ میں کیس ہو گا تو ڈی سیز عدالت میں درخواست دے گا چیف جسٹس عالیہ نیلم سول کورٹ میں درخواست دینا تو دور ہائیکورٹ کے احکامات کو بھی اڑا دیا گیا، چیف جسٹس عالیہ نیلم یہ لیگل ایشوز ہیں ایسے آپ کام کرینگے تو سوسائٹی میںں انارکی پھیلے گی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم قانون شہادت کو آپ نے ختم کردیا ہے جس کو آئین پاکستان تحفظ دیتا ہے چیف جسٹس عالیہ نیلم پراپرٹی پر قبضہ لیا گیا مگر ڈپٹی کمشنر تحریری احکامات نہیں دے رہا وکیل درخواست گزار رولز ابھی آنے ہیں سرکاری وکیل رولز کب آنے ہیں؟ کاروائیاں کی جارہی ہیں چیف جسٹسبغیر رولز بنے کیسے کارروائیاں ہوسکتی ہیں؟ چیف جسٹس آپ یہ بتائیے کہ جب ڈی سیز آرڈر نہیں دے گا تو متاثرہ فریق آرڈر چیلنج کیسے کرے گا چیف جسٹس عالیہ نیلم متاثرہ فریق نے بغیر آرڈر کے درخواستیں دی تو آفس نے اعتراض لگا دیا چیف جسٹس اب آپ یہ بتائیں کہ متاثرہ فریق کہاں جائیں، چیف جسٹس یہ آپکے سامنے متاثرہ شخص کھڑا ہے آپ بتائیں ان کے پاس کیا آپشن ہے چیف جسٹس قانون مکمل ہوتا ہے نا مکمل کچھ نہیں ہوتا چیف جسٹس عالیہ نیلم عدالت میں کیس آنے کے بعد آپ نے ٹریبونلز کا نوٹیفکیشن کیا ہے چیف جسٹس عالیہ نیلمڈی سی شیخوپورہ نے زبانی طور پر قبضے کا آرڈر دیا وکیل درخواست گزار تمام درخواستوں میں سنگین نوعیت کے الزامات ہیں چیف جسٹس عالیہ نیلم ہم اس لیے ہر کیس دیکھ رہے ہیں کہ آپکو پتہ چلے کہ ہو کیا رہا ہے ،چیف جسٹس عالیہ نیلم کا سرکاری وکیل سے استفسار آپکو پتہ چلے کہ قانون کیا تھا اور کام کیا ہو رہا تھا چیف جسٹس عالیہ نیلمآپ کے علم میں آئے کیسے اختیار سے تجاوز کیا جا رہا ہے چیف جسٹس عالیہ نیلم ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت تھا اس کے باوجود ڈپٹی کمشنر نے قبضہ کروایا وکیل درخواست گزار ایکٹ میں ہے کہ اگر معاملہ سول کورٹ میں زیر التوا ہوگا تو ڈی سی متعلقہ کورٹ میں درخواست دے گا چیف جسٹس عالیہ نیلم سول کورٹ پابند ہوگی کہ کیس کو ٹریبونل کو بھجوایاجائے چیف جسٹس سرکاری وکیل صاحب بتائیے کیا اس نقطے پر عمل ہورہا ہے؟ چیف جسٹس عالیہ نیلم یہ جو شور مچایا ہے سارے جہاں میں ٫٫ کام تو پھر کام ہوتا ہے چیف جسٹس عالیہ نیلم آپ کے قانون میں تو کچھ بھی نہیں لکھا چیف جسٹس عالیہ نیلم یہ بتائیے کہ کہاں لکھا ہے کمیٹیاں قبضہ دلوائیں گی؟ چیف جسٹس س عالیہ نیلم قانون میں ہے کہ ٹریبونل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد قبضہ ہوگا چیف جسٹس عالیہ نیلم پیرا کیسے قبضے دلوا رہا ہے؟چیف جسٹس عالیہ نیلم کمیٹی پیرا کو کہتی ہے ، پیرا قبضہ دلوا دیتی ہے چیف جسٹس عالیہ نیلمبغیر کسی آرڈر کے زبانی طور پر قبضے کیسے دلوائے جا رہےہیں؟ چیف جسٹس عالیہ نیلم کیا اگر یہ عدالت بغیر آرڈر کے آپکو کچھ کہے تو کیا آپ مان لیں گے؟چیف جسٹس عالیہ نیلم آپ تو کہیں گے کہ پہلے آرڈر دکھائیں پھر آگے بات کریں چیف جسٹس عالیہ نیلم سرکاری وکیل صاحب بتائیے کہ کیا زبانی احکامات ٹریبونل نے جاری کیے؟ چیف جسٹس عالیہ نیلم کیا ٹریبونلز نے کام شروع کردیا ہے؟ چیف جسٹس عالیہ نیلم ابھی تک اپکے ٹریبونلز نے کام نہیں شروع کیا چیف جسٹس عالیہ نیلم نہ عملہ ہے نا یہ پتہ ہے کہ ٹربیونل کہاں بیٹھیں گے چیف جسٹس عالیہ نیلم کیا یہ اختیارات سے تجاوز نہیں؟ چیف جسٹس عالیہ نیلم کیا قانون کا غلط استعمال نہیں ہو رہا ہے چیف جسٹس عالیہ نیلم تمام چیزیں بتانا پڑتی ہیں کہ کوئی درخواست آئے تو کس طرح کارروائی ہوگی چیف جسٹس عالیہ نیلمعدالت درخواستیں فل بینچ کے روبرو سماعت کے لیے مقرر کرنی کی ہدایت کردیچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ابوبکر سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی

یہ کہانی ہے ایک عام شہری کے تحفظ اور انصاف کی بالادستی کی، جسے لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) نے ایک تاریخی فیصلے کی صورت میں تحریر کیا ہے۔​پہلا باب: قانون کا ظہور اور ایک نئی الجھن​جب حکومتِ پنجاب نے Punjab Protection of Ownership of Immovable Property Ordinance, 2025 نافذ کیا، تو اس کا مقصد جائیدادوں پر ناجائز قبضے ختم کرنا تھا۔ اس قانون کے تحت دو اہم فورم بنائے گئے: ایک ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی (DRC) اور دوسرا ٹریبونل۔ لیکن عملی طور پر ایک غلط فہمی پیدا ہو گئی؛ انتظامیہ اور DRC نے خود کو جج اور پولیس دونوں سمجھنا شروع کر دیا اور زبانی احکامات پر لوگوں کو بے دخل کرنے لگے۔​دوسرا باب: عدالت کی مداخلت – ’کون کیا کر سکتا ہے؟‘​معاملہ جب لاہور ہائی کورٹ پہنچا، تو عدالت نے اس قانون کی تہوں کو کھول کر رکھ دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہر ادارے کی اپنی ایک "لکشمن ریکھا" (حدود) ہے جسے پار نہیں کیا جا سکتا۔​تیسرا باب: DRC کی حقیقت (محض ایک سہولت کار)​عدالت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ DRC کوئی عدالت نہیں ہے۔​یہ صرف ایک تفتیشی اور مفاہمتی فورم ہے۔​اس کا کام فریقین کو سننا، حقائق دیکھنا اور صلح کی کوشش کرنا ہے۔​سیکشن 9 کے تحت اس کے پاس صرف "احتیاطی" اختیارات ہیں، جیسے ضمانت لینا یا عارضی طور پر جائیداد سیل کرنا—وہ بھی صرف تب، جب کوئی تحریری اور ٹھوس وجہ موجود ہو۔​عدالت نے خبردار کیا کہ DRC نہ تو زبانی حکم دے سکتی ہے، نہ پولیس کے ذریعے قبضہ چھڑوا سکتی ہے اور نہ ہی کسی کو بے دخل کر سکتی ہے۔​چوتھا باب: اصل طاقت – ٹریبونل کا اختیار​کہانی کا اصل رخ سیکشن 16 اور 17 کی طرف مڑتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون کی نظر میں کسی کو جائیداد سے نکالنے یا قبضہ بحال کرنے کا اختیار صرف اور صرف ٹریبونل کے پاس ہے۔جب تک ٹریبونل کا باقاعدہ قانونی حکم نامہ جاری نہ ہو، کسی شہری کو اس کی چھت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔​پانچواں باب: عدالتی حکم کی بالادستی​فیصلے میں ایک اہم موڑ یہ بھی آیا کہ اگر پہلے سے کسی سول کورٹ کا اسٹے آرڈر (Status-quo) موجود ہے، تو DRC کی حیثیت ایک تماشائی سے زیادہ کچھ نہیں۔ وہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی بھی اقدام نہیں کر سکتی۔ ایسا کرنا عدالتی اختیار میں مداخلت مانا جائے گا۔​حتمی نتیجہ: انصاف کی فتح​اس فیصلے نے یہ پیغام دیا ہے کہ:​قانون کا راستہ (Due Process): شارٹ کٹ نہیں چلے گا۔​شہری حقوق کا تحفظ: انتظامیہ اپنی مرضی سے کسی کو بے گھر نہیں کر سکتی۔​واضح تقسیم: تفتیش کرنا DRC کا کام ہے، اور فیصلہ سنانا ٹریبونل کا۔​آج یہ فیصلہ ہر اس شہری کے لیے ڈھال بن گیا ہے جو انتظامیہ کی من مانیوں کا شکار تھا، اور وکلاء کے لیے ایک ایسی کتاب بن گیا ہے جس نے جائیداد کے تنازعات میں انصاف کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔

یہ اقتباس سیتا رام بنام سرکار (2025 SCMR 2028) کے فیصلے سے لیا گیا ہے، جو قانونِ شہادت آرڈر 1984، مجموعہ ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) اور ہائی کورٹ رولز کے تحت عدالتی اعترافِ جرم (Judicial Confession) کے ریکارڈ کرنے کے طریقہ کار، شرائط اور اس کی قانونی حیثیت کی وضاحت کرتا ہے۔​ذیل میں اس کا اردو ترجمہ پیش ہے:​جوڈیشل اعترافِ جرم: شرائط، طریقہ کار اور حفاظتی تدابیر​قانونِ شہادت آرڈر 1984 کا آرٹیکل 91 یہ قرار دیتا ہے کہ جب بھی کوئی دستاویز عدالت میں پیش کی جائے جو کسی گواہ کا عدالتی کارروائی میں بیان ہو، یا کسی بااختیار افسر کے سامنے دیا گیا ہو، یا کسی ملزم کا اعترافی بیان ہو جو قانون کے مطابق ریکارڈ کیا گیا ہو اور اس پر جج یا مجسٹریٹ کے دستخط ہوں، تو عدالت یہ فرض کرے گی (Presume) کہ وہ دستاویز اصلی ہے اور اس پر درج حالات و واقعات سچے ہیں اور یہ اعتراف قانونی طور پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔​اس مفروضے کی بنیاد اس جملے پر ہے کہ بیان "قانون کے مطابق" لیا گیا ہو۔ قانون کے مطابق ہونے کے لیے درج ذیل شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے:​1. لازمی شرائط (دفعہ 164 ضابطہ فوجداری)​بیان اور اعتراف: دفعہ 164 کی شرائط 'بیان' (Statement) اور 'اعترافِ جرم' (Confession) دونوں پر لاگو ہوتی ہیں۔​وقت: جوڈیشل اعتراف تفتیش کے دوران یا تفتیش کے بعد لیکن انکوائری یا ٹرائل شروع ہونے سے پہلے کسی بھی وقت ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔​مجاز اتھارٹی: اعترافِ جرم صرف فرسٹ کلاس مجسٹریٹ یا خصوصی طور پر بااختیار سیکنڈ کلاس مجسٹریٹ ریکارڈ کر سکتا ہے۔ پولیس افسر، چاہے اسے مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہوں، اعترافِ جرم ریکارڈ کرنے کا مجاز نہیں ہے۔​ملزم کی موجودگی: اعتراف کے علاوہ دیگر بیانات ملزم کی موجودگی میں ریکارڈ ہوں گے اور اسے جرح کا حق حاصل ہوگا۔ اعترافِ جرم دفعہ 364 کے تحت ریکارڈ اور دستخط شدہ ہونا چاہیے۔​انتباہ (Warning): مجسٹریٹ اعتراف ریکارڈ کرنے سے پہلے ملزم کو واضح طور پر سمجھائے گا کہ وہ اعتراف کرنے کا پابند نہیں ہے، اور اگر اس نے اعتراف کیا تو اسے اس کے خلاف بطور شہادت استعمال کیا جا سکتا ہے۔​رضاکارانہ ہونا: مجسٹریٹ اس وقت تک اعتراف ریکارڈ نہیں کرے گا جب تک وہ ملزم سے سوالات کر کے مطمئن نہ ہو جائے کہ ملزم یہ بیان اپنی مرضی (رضاکارانہ طور پر) دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں مجسٹریٹ ایک یادداشت (Memorandum) بھی تحریر کرے گا۔​2. ریکارڈ کرنے کا طریقہ کار (دفعہ 364 ضابطہ فوجداری)​ہر سوال اور اس کا جواب مکمل طور پر ریکارڈ کیا جائے گا۔​بیان اسی زبان میں ریکارڈ ہوگا جس میں ملزم نے دیا، یا پھر عدالت کی زبان (اردو/انگریزی) میں۔​ریکارڈ ملزم کو پڑھ کر سنایا جائے گا، اگر وہ نہ سمجھے تو اسے ترجمہ کر کے سمجھایا جائے گا۔ ملزم کو اپنے جواب میں وضاحت یا اضافے کی اجازت ہوگی۔ آخر میں ملزم اور مجسٹریٹ دونوں دستخط کریں گے۔​3. حفاظتی تدابیر (ہائی کورٹ رولز اینڈ آرڈرز)​اعترافِ جرم کھلی عدالت میں، عدالتی اوقات کے دوران اور پولیس کی غیر موجودگی میں ریکارڈ ہونا چاہیے۔​اعتراف کے بعد ملزم کو پولیس کے حوالے کرنے کے بجائے جوڈیشل لاک اپ (جیل) بھیجا جائے گا۔​بیان ریکارڈ کرنے سے پہلے ملزم کو کم از کم آدھا گھنٹہ تنہائی میں سوچنے کا وقت دیا جائے تاکہ وہ پولیس کے دباؤ سے نکل سکے۔​ہتھکڑیاں اتار دی جانی چاہئیں۔ اگر مجسٹریٹ نے یہ ذکر نہ کیا کہ ہتھکڑیاں اتاری گئی تھیں، تو اعتراف کی رضاکارانہ حیثیت مشکوک ہو سکتی ہے۔​اعترافِ جرم کی شہادت میں اہمیت اور واپسی (Retraction)​عدالتِ عظمیٰ کے مطابق:​بنیادِ سزا: ایک سچا، واضح اور رضاکارانہ اعترافِ جرم سزا کی بنیاد بن سکتا ہے۔​بیان سے مکر جانا (Retracted Confession): اگر ملزم بعد میں اپنے اعترافی بیان سے مکر جائے، تب بھی اس کی قانونی اہمیت ختم نہیں ہوتی، بشرطیکہ وہ قانون کے مطابق ریکارڈ ہوا ہو۔ تاہم، احتیاط کا تقاضا ہے کہ ایسے بیان کی تائید (Corroboration) دیگر شواہد سے ہونی چاہیے۔​مکمل قبولیت: اعترافی بیان کو بطورِ مجموعی (As a whole) قبول یا مسترد کرنا ہوگا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ عدالت اس کا وہ حصہ مان لے جو ملزم کے خلاف جاتا ہے اور وہ حصہ چھوڑ دے جو اس کے حق میں ہے۔​رضاکارانہ ہونا اصل شرط ہے: اگر اعتراف کسی لالچ، دھمکی یا وعدے (آرٹیکل 37 قانونِ شہادت) کے نتیجے میں ہو، تو وہ غیر متعلقہ اور ناقابلِ قبول ہوگا۔ چاہے بیان سچا ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ رضاکارانہ نہیں ہے تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔​تاخیر کا اثر: اعتراف ریکارڈ کرنے میں تاخیر اس کی رضاکارانہ حیثیت پر اثر انداز ہو سکتی ہے، لیکن تاخیر بذاتِ خود اسے کالعدم نہیں کرتی۔​خلاصہ: عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتہائی احتیاط سے کام لے، خاص طور پر بچوں یا کمزور افراد کے معاملے میں، اور یہ یقینی بنائے کہ اعترافِ جرم کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ یا خوف کے بغیر، محض ضمیر کی آواز یا پچھتاوے کے نتیجے میں دیا گیا ہے۔

بار بار التواء (تاریخ لینے) کی درخواستیں دینے کی وجہ سے عدالت نے عبوری حکمِ امتناع (Ad-Interim Injunction) واپس لیا تاکہ درخواست گزار کی حاضری یقینی بنائی جا سکے اور عبوری ریلیف کی درخواست پر دلائل سنے جا سکیں۔ ایسا حکم عام طور پر حتمی فیصلہ نہیں ہوتا اور اسے اعلیٰ عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔اس قسم کے حکم میں اعلیٰ عدالت صرف اسی صورت مداخلت کرتی ہے جب یہ ثابت ہو کہ حکم قانون یا حقائق کے خلاف، غیر قانونی، من مانی پر مبنی یا دائرۂ اختیار سے باہر دیا گیا ہو۔ محض عبوری حکم واپس لینے کی بنیاد پر اعلیٰ فورم سے رجوع کرنا قابلِ قبول نہیں ہوتا۔متفرق رٹ نمبر: 75498/25کنیز بیگم بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج وغیرہفیصلہ: جسٹس مزمل اختر شبیربتاریخ: 18-12-20252025 LHC 7754

PETITION WRITING1. Application for Temporary Injunction. (ORDER 39 Rules 1 & 2)2. Application for Rejection of pliant. (ORDER 7 Rules 11)3. Application for Return of pliant. (ORDER 7 Rules 10).4. Application for Amendment. (ORDER 6 Rules 16 & 17)5. Application for Appointment of Commission. (Section 75 & ORDER 26).6. Application for Appointment of Receiver. (ORDER 40)7. Application for Amendment of issues, or Framing Additional Issues. (ORDER 14 Rule 5).8. Application for production of a witness not mentioned in list of witnesses. (ORDER 16 Rule 1)9. Application for production of document. (ORDER 13).10. Application for Addition, deletion, or transposition of parties. (ORDER 1 Rule 10, sub-rule (2).11. Application for Stay of Suit, “Res-subjudice”. (Section 10).12. Application for Setting aside Exparte Proceedings and Exparte Decree. (ORDER 9 Rules 6 & 13).13. Application for Restoration of Suit. (ORDER 9 Rule 9).14. Application for Withdrawal of Suit, with or without permission to file fresh one. (ORDER 23).15. Application for permission to sue as a pauper. (ORDER 33).16. Application for Review of Order/Judgment. (Section 114 and ORDER 47).

(i) Under section 7(3) of the MFLO, a Talaq does not become legally effective until the expiry of 90 days from the date on which notice under section 7(1) is received by the Chairman of the Union Council, unless it is revoked earlier. Section 7(3) precludes the Talaq from taking effect for a specified period, during which the parties continue to be the husband and wife in law.(ii) During this 90-day period, the husband retains the right to revoke the Talaq either expressly or by any unequivocal conduct indicating such intent. Intimation to the Chairman is not a statutory precondition for revocation.(iii) Where the Talaq is revoked within the aforementionedperiod, the marriage continues to subsist in law, regardless of the form in which the divorce was originally pronounced (including Talaq-ul-bidaat).(iv) Failure to send notice to the Chairman may attract penal consequences under section 7(2), but does not by itself amount to revocation of Talaq. It renders the pronouncement ineffective, not invalid, in law.(v) The legal effect of divorce under Islamic law without compliance with section 7 has limited recognition only in prosecutions for Zina, where the Shariat Appellate Bench has held that such divorces, though unnotified, may still be valid under Shariah. This exception does not apply to the offence of rape under section 376 PPC(vi) The Chairman of the Union Council is required, upon receiving notice under section 7(1), to constitute an Arbitration Council and facilitate reconciliation between the parties. However, failure of either party to appear or of the Council to conduct proceedings does not prevent the operation of section 7(3). The Chairman is not empowered to adjudicate on the validity or effect of Talaq, and the issuance or non-issuance of a certificate has no legal bearing on its effectiveness.(vii) A divorce by Mubara’at, once duly executed and communicated to the Chairman, is irrevocable, and the husband has no authority to withdraw from it unilaterally. The requirement of notice under section 7(1) of the MFLO applies mutatis mutandis. However, it only ensures procedural regularity and does not affect the validity or finality of the dissolution.Law distinguishes between sin, crime, and offence. A “sin” is a moral or religious transgression, an act considered wrong according to divine command or ethical principles, judged by one’s faith or conscience. Its consequences are spiritual or moral, such as guilt or divine punishment. In contrast, under the statutory framework of Pakistan, a “crime” is an act or omission that is made punishable by law. It is a public wrong that affects society at large, and the offender may be punished by death, imprisonment, fine or other legal penalties. Courts established under the Constitution adjudicate only statutory offences and do not concern themselves with moral or religious conduct. The term “offence” is a technical expression that refers to any act (or omission) that violates the law. It encompasses both regulatory violations, such as traffic infractions, and serious penal acts like murder. “Offence” is a broader concept than “crime”, the latter being generally reserved for serious offences involving public wrongs. Thus, every crime is an offence, but not every offence amounts to a crime in this sense. Under Shariah, however, a crime is an act prohibited by divine injunction and punishable with Hadd or Ta’zir penalties. In the present case, the marital bond between the Petitioner and Respondent No.5 existed in law at the time of the alleged occurrence. The Petitioner’s conduct may be considered immoral or inappropriate under religious or social norms, but he cannot be prosecuted under section 376 PPC because, on the facts pleaded in the FIR, the essential ingredients of the offence are not disclosed. Writ Petition No. 39/2025 Jameel Ahmad Vs. The State and othersDate of hearing:14.11.20252025LHC7342

QANUN-E-SHAHDAT ORDER, 1984 ON FINGER-TIPSINTRODUCTION:It is President’s Order No. 10 of 1984.This Order Made by President On 30TH Muharram, 1405 (26 October, 1984).This Order is the Reproduction Of “LAW OF EVIDENCE ACT, 1872”.The Purpose behind Reproducing of “LAW OF EVIDENCE ACT, 1872” into “QANUN-E-SHAHADAT ORDER, 1984” Was to bring it in conformity with Injunctions Of Holy Quran and Sunnah.It consists of 3 parts.It consists of 13 chapters.It Consists Of 166 Articles.EVIDENCE: According to Article 2(c) of QSO, Evidence includes all statements which the court permits or requires to be made before it by witnesses, such statements are called “Oral Evidence”. In Other way All Documents produced for the Inspection Of the Court, Such Documents are called “Documentary Evidence”.KINDS OF EVIDENCE: Following are the Kinds Of Evidence:ORAL EVIDENCEDOCUMENTARY EVIDENCEPRIMARY EVIDENCESECONDARY EVIDENCEDIRECT EVIDENCECIRCUMSTANTIAL EVIDENCE/INDIRECT EVIDENCEREAL EVIDENCEPERSONAL EVIDENCEHEARSAY EVIDENCESUMMARY DETAILS OF QSO:Articles 3 and 17 of QSO discuss The “QUALIFICATION, CRITERIA, COMPETENCY AND NUMBER OF WITNESSES”, required to prove any Fact-in-Issue or Relevant Facts.Articles 4 to 14 of QSO discuss The “EXCEPTIONS, PRIVILEGES” In a Way That Persons coming under purview of these Articles are not allowed or permitted to Give Evidence or Statement with Respect to their Privileged Communications.Article 15 of QSO discusses “PROTECTION TO WITNESS” in a Way That Witness should give all the Answers to the Questions but he can not be Arrested or prosecuted and Such Answers shall not be proved against him in any criminal proceedings.Article 16 of QSO discusses the “ACCOMPLICE/APPROVER”, who Is commonly known as “SULTANI GAWAH” Or “WADA MAAF GAWAH” in a Way That he becomes competent witness Against principal Accused but his evidence is not applicable in Hudood cases. It is an Important Rule Of An Evidence that Evidence of an Accomplice can not be proved unless it is corroborated Under Article 129(b) of QSO.Article 17 of QSO discusses “COMPETENCY AND NUMBER OF WITNESSES” under the ambit of “TAZKIYAH-TUL-SHAHOOD” to Ascertain whether that witness is a credible one or not.Article 18 to 29 of QSO discuss The “FACTS-IN-ISSUE And RELEVANT FACTS”.“Fact-in-Issue” can be called “PRINCIPAL FACTS” Or “FACTUM PROBANDIUM” which clarifies the Existence or Non-Existence of certain fact/Incident.“Relevant Fact” can be called “EVIDENTIARY FACTS” Or “FACTUM PROBANDI” Which are so connected with “Facts-in-Issue” that they render the Principal Facts probable or improbable.Article 19 of QSO discusses “RESGESTAE”.Article 22 of QSO discusses The “IDENTIFICATION PARADE”, meaning thereby, the procedure in which the Identification of an Offender is done, who was a stranger, not known previously to the witness.The Object of Identification Parade is to find out whether suspected person is the Real Offender or Not.Article 24 of QSO discusses The “PLEA OF ALIBI”.The word “ALIBI” is a Latin Term which Means “ELSE-WHERE”.“PLEA OF ALIBI” Is a Plea of defense by which the Accused Suggests To the court that he was somewhere else at the time of commission of an offence.“PLEA OF ALIBI” Is only Applicable in Criminal Cases Not in Civil cases.Article 30 to 36 of QSO discuss The “ADMISSIONS”, Meaning thereby, A Statement Oral or Documentary by Party or Witness, which suggests Any inference As to Any Facts-in-Issue or Relevant facts.“ADMISSION” Simply means Acknowledgment of Right Of Another upon Himself.“ADMISSION” Is of two kinds: i. JUDICIAL ADMISSION ii. EXTRA-JUDUCIAL ADMISSION.Articles 37 to 43 of QSO discuss The “CONFESSION” Whereas Sections 164,364,533 Of Cr.PC gives procedure for CONFESSION.“CONFESSION” Means An Acknowledgment by Accused in Express words in criminal cases regarding charge being imposed upon him.“CONFESSION” Is Of three kinds: i. JUDICIAL CONFESSION ii. EXTRA-JUDICIAL CONFESSION iii. RETRACTED CONFESSION.“ADMISSION” Is Normally made in Civil Cases.“CONFESSION” Is Normally made in Criminal Cases.Article 46 of QSO discusses The “DYING DECLARATION”.“DYING DECLARATION” Means A statement Made by Dying person as to cause of his death or circumstances of his death.“DYING DECLARATION” Is Admissible in both Civil And criminal cases.The Modes Of “DYING DECLAARTION” Are: i. WRITTEN ii. ORAL iii. SIGNALS,SIGNS,GESTURES.Article 54 of QSO discusses The “RES-JUDICATA” Just Like Section 11 Of CPC, And Section 403 of CrPC.Article 55 of QSO discusses The “DECLARATION” Just like section 42 of Specific relief Act. This Article 55 Applies in the Capacity of Judgment-in-Rem.Articles 59 to 65 of QSO discuss The “OPINION OF EXPERTS/THIRD PERSONS”.Articles 70 And 71 Of QSO discuss “ORAL EVIDENCE”, Which must be Direct Evidence, in order to make it Admissible and Trust-Worthy.“HEARSAY EVIDENCE” Is an Exception To Articles 70 and 71 Of QSO, But though this Evidence deems to be No Evidence in the Eyes of Law.“HEARSAY EVIDENCE” Means an Evidence Which a witness does not say of his own knowledge, but says that another said or signified to him.Article 73 of QSO discusses The “PRIMARY EVIDENCE”, Meaning thereby that Evidence in which original documents itself produced for the inspection of the court.Article 74 of QSO discusses The “SECONDARY EVIDENCE”, Meaning thereby that Certified True Copies Made from the Original Record.Hand-Writing of a person can be proved under Articles 61, 78,84 of QSO.Article 85 of QSO discusses The “PUBLIC DOCUMENTS”.Article 86 of QSO discusses The “PRIVATE DOCUMENTS”.Articles 90 to 101 And 129 Of QSO discuss “PRESUMPTIONS AS TO DOCUMENTS”.“PRESUMPTION” is a Kind Of Universally Accepted principle.Articles 111 to 113 of QSO discuss “FACTS NEED NOT TO BE PROVED”Facts Judicially noticeable need not to be proved.Article 114 of QSO discusses “ESTOPPEL”.The word “ESTOPPEL” is derived from An Old French Word “ESTOUPAIL” which means to stop or to hinder.“ESTOPPEL” Is a Rule of evidence whereby a person is prevented from denying or asserting fact contrary to his previous statement.Rule Of “ESTOPPEL” Is based on Maxim, “Allegans contraria non est audiendus”, means a person alleging contradictory facts must not be proved.Rule Of “ESTOPPEL” Is used in civil Law and has ano Application in criminal proceedings.Article 117 to 127 of QSO discuss “BURDEN OF PROOF”.The person Who claims for Remedy is under an obligation to prove Existence Of Certain facts. This obligation is called “BURDEN OF PROOF”“BURDEN OF PROOF’ Is based on the Maxim “Incumbit probation qui dicit non qui neyate” means the “BURDEN OF PROOF” Is on the party who asserts, not on him who denies.In Civil Cases, “BURDEN OF PROOF” lies on Plaintiff.In Criminal cases, “BURDEN OF PROOF” lies on Prosecution.In Criminal cases, “BURDEN OF PROOF” Shifts from Prosecution to Accused When Accused takes the plea Under Sections 96 to 106 of PPC Or Plea of Alibi Under Article 124 (1) Of QSO.Article 128 of QSO discusses “LEGITIMACY OF CHILD”.If child is born after six lunar months of Marriage is legitimate AS PER Article 128 of QSO.If child is born within two years after its dissolution, the mother remained unmarried is legitimate as per Article 128 of QSO.Article 132 of QSO discusses “MODES OF EXAMINATION OF WITNESS”.“EXAMINATION-IN-CHIEF” Means the Examination of witness by the party who calls him shall be called his Examination-In-Chief.“CROSS-EXAMINATION” Means the Examination of a witness by the Adverse party shall be called his Cross-Examination.“RE-EXAMINATION” Means the Examination of witness subsequent to Cross Examination by party who calls him shall be called his Re-Examination.Article 136 of QSO discusses “LEADING QUESTIONS”.“LEADING QUESTIONS” Are those questions which suggest the answer to the Witness in the form of YES/NO.“LEADING QUESTIONS” Must not be asked in Examination-In-Chief, except with the permission of court, If objected by Adverse party As per Article 137 of QSO.“LEADING QUESTIONS” Can be asked in Cross-Examination as per Article 138 of QSO.Article 150 of QSO discusses “HOSTILE WITNESS”.Article 151 of QSO discusses “IMPEACHING CREDIT OF WITNESS”Article 164 of QSO discusses “EVIDENCE THROUGH MODERN DEVICES”.Devices such as Internet, Skype, Video Link, phone calls, SMS, Video conference, VCR, CD, DVD Etc are modern devices and can be produced as an evidence as per Article 164 of QSO.

پاکستان بار کونسل انتخابات نتائج!خیبر پختونخواہ؛1. عبدالستار خان (پروفیشنل گروپ + ILF)2. قاضی ارشد (پروفیشنل گروپ + ILF )3. نوید اختر (جمیعت علمائے اسلام)4. رحیم اللہ خان (ملگری وکیلان + ANP)اسلام آباد؛1. راجہ رضوان عباسی (انڈی پینڈنٹ گروپ)بلوچستان؛1. منیر کاکڑ (پروفیشنل گروپ + ILF)سندھ؛1. عابد زبیری (پروفیشنل گروپ + ILF)2. بیرسٹر صلاح الدین احمد (پروفیشنل گروپ + ILF)3. فاروق ایچ نائیک (پروگریسو گروپ + PPP)4. عبید ملانو (پروگریسو گروپ + PPP)5. سلیم منگریو (پروگریسو گروپ + PPP)6. منیر ملک (پروگریسو گروپ + PPP)پنجاب؛1. سلمان اکرم راجہ (پروفیشنل گروپ + ILF)2. شفقت محمود چوہان (پروفیشنل گروپ + ILF)3. مقصود بٹر (پروفیشنل گروپ + ILF)4. احسن بھون (انڈی پینڈنٹ گروپ)5. طاہر نصر اللہ وڑائچ (انڈی پینڈنٹ گروپ)6. مسعود چشتی (انڈی پینڈنٹ گروپ)7. قلب حسن (انڈی پینڈنٹ گروپ)8. ثاقب اکرم گوندل (انڈی پینڈنٹ گروپ)9. عامر سعید راں (انڈی پینڈنٹ گروپ)10. حفیظ االرحمن چوہدری (انڈی پینڈنٹ گروپ)11. اعظم نذیر تارڑ (انڈی پینڈنٹ گروپ)ان نتائج کی روشنی میں 👇انڈی پینڈنٹ گروپ = 9 نشستیںپروفیشنل گروپ = 8 نشستیں پروگریسو پینل = 4 نشستیں جمیعت علمائے اسلام = 1 نشست ملگری وکیلان = 1 نشست حاصل کی ہیں۔

249-A power of magistrate to aqcuite accused at any stage of proccedingsPLJ 2004 SC 2PLD 1981 SC 607NLR 1999 PCRLJ 1372003 YLR 2742005 PCRLJ 252PLD 1984 SC 428PLD 1999 SC 10632000 MLD 6051991 PCRLJ 13811985 SCMR 257PLD 1991 LAH 268 1999 MLD 1645PLD 1999 SC 10632003 PCRLJ 12PLJ 2003 AJ&K2004 PCRLJ 1068Locus Poenitentie U/S 121 of General Clause ActPLD 1997 KARACHI 4501998 SCMR 27452002 CLC 14642004 YLR 20472003 CLC 11962000 CLC 443PLD 1964 SCMR 4071001 SCMR 15PLD 1985 AJK 17PLD 1975 KARACHI 3731994 MLD 751Pre- Emption1988 SCMR 8921996 CLC 1612001 SCMR 4951991 MLD 5062008 PLD MARCH/APRILMian peer v/s Fakir mohammadPLD 2007 SC 1211991 SCMR 112Accused not named in F.I.R2006 YLR 16642006 YLR 7122006 PCRLJ 4232006 PCRLJ 10702006 PCRLJ 9862006 PCRLJ 6122006 PCRLJ 4182006 YLR 4182006 YLR 1404 2006 YLR 1872Check dishounor / 489-FPLJ 2004 545 PLD 99 KARACHI 121PCRLJ 2004 343PLD 95 SC 342004 PLJ LAHORE 522Plea of Alibi2005 MLD 17562005 MLD 12672005 MLD 4152006 YLR 7492006 PCRLJ 1842004SCMR 10192005 PCRLJ 1269 Identification Parade2006 MLD 142005 YLR 6572006 MLD 4312005 YLR 14042006 YLR 6732005YLR 3151Identification Parade not HeldBenefit of doubtPLJ2005 Cr.C Lah 472006 MLD 6142006 MLD 595PLJ 2005 Cr.C.Pesh 9992006 PDr.LJ 10332005 YLR 3141 Benefit of doubtCustody of minorCUSTODY OF MINOR1. 2003MLD 9772. 2003 CLC 14923. 2003 CLC1265 LAH4. 1994 MLD 11995. 1983 SCMR 4806. 1981 NLR 7417. 1983 SCMR 4818. 1996 CLC KAR9. 2003 MLD 980Bail in rape casesPCRLJ 2006 CR.C LAHORE 433PLJ 2006 CR,C LAH 101PLJ 2006 CR.C LAH 106PLJ 2005 CR.C LAH 813PLJ 2005 CR.C LAH 5422003 YLR 1757PLJ 2003 CR.C LAH 640 Bail in Rape cases under hadood ordinance Sec 10/111984 PCRLJ 365NLR 1993 5686 PCRLJ 1587PLD 84 SC 23PLD 59 LAH 6771990 ALD 92 (1)1990 ALD 435 (2)Delay in FIR in that cases1990 ALD 546NLR 1993 PESH 480Decoy witness1994 PCRLJ 2921989 PCRLJ 1324/1334Excused of accused in court1980 PCRLJ 1---3PLD 1988 KAR 5351989 PCRLJ 1652PLD 1993 373BailBail means to hand over an accused into the hands of surety from the custody of state.Definition of bail after arrest U/S 497 Cr.P.CPLJ 2006 SC (AJ & K ) 65.Principles of bail after arrest.1. Prima facie case 1991 MLD 14352. Appreciation of evidence 2004 PCr.LJ1273. Benefit of doubt 199 PCr.Lj 5824. Recovery 1998 MLD 13665. Delay in trial PLD 2005 Karachi 201Distinction between bail after arrest and bail before arrest2005 PCr.Lj 546 2005 YLR 3133Grounds of Bail after Arrest(i) Further Inquiry U/S 497PLJ 2006 Cr.C.Lah 885 (Grant) 2005 YLR 2532(Grant)PLJ 2006 Cr.C.Lah 97 (Grant)2005 MLD 1072 (Grant)(ii) Delay in Lodging FIRPLJ 2006 Cr.C(Lah)117 (Grant)2006 YLR 18632006 YLR 15632006 YLR 7122006 PCr.LJ 10872006 YLR 712Stay order 39 rule 1-21989 SCMR 1301992 SCMR 1381988 PLD S.C 15092000 SCMR 780AIR 37 LAH 288 2003 CLC 16595Grounds of bail before2006 YLR 13052006 MLD 5592006 MLD 10462006 PCRLJ 234PLJ CRC(LAH)173 2006 MLD 491Neccessary party1906 MLD 1951986 MLD 181957 LAH 8821970 SCMR 8391987 LAH 336/307Ejectment of tenent for personal use1996 SCMR 10971997 SCMR 10621991 SCMR 18311991 SCMR 23371987 MLD 7151987 MLD 23671987 MLD 10781988 MLD 1974NLR 1997 CIVIL 290NLR 1999 AC 523NLR 1997 CIVIL 706PLJ 2003 SC 65PLD 1987 KARACHI 1801991 CLC 1381 1991 SCMR 1759Judgements for maintainance of children to the fatherPLD 1881 LAHORE 280PLD 1986 LAHORE 272PLD 1958(W.P)LAHORE 5961985 MLD 96NLR 1991 CLJ 4301987 CLC 247

Burden of proof on prosecution to prove both actus and mens rea to secure conviction; Ingredients of offences under Sections 409, 467, 468, 471, 477-A, and 109 of PPC explained;Secondary evidence, i.e., certified copies or Photostat of documents, is exception to general rule and can only be allowed if conditions specified in Article 76 QSO exist and notice in terms of Article 77 QSO is given;Confession of co-accused with independent corroboration is weak type of evidence, and without independent corroboration, of no evidentiary value;Crl. Appeal 1826514.1477-15MUHAMMAD ASHRAF VS STATE ETC. Mr. Justice Muhammad Jawad Zafar 22-09-2025 2025 LHC 7236